حدیث نمبر: 6224
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مُصعَب بن عبد الله الزُّبيري قال: أمُّ سعدٍ وأمُّ أخويه عُميرٍ وعامرٍ: حَمْنةُ بنت سفيان (1) ابن أُميَّة بن عبد شمس، واستُشهِدَ عُمير ببدر، وكان عامرٌ من مهاجري الحَبَشة، وكان يَخضِبُ بالسَّواد؛ يعني سعدًا (2).
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ سیدنا سعد اور ان کے دو بھائیوں عمیر اور عامر رضی اللہ عنہم کی والدہ حمنہ بنت سفیان بن امیہ تھیں، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شہید ہوئے جبکہ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین میں شامل تھے، اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سیاہ خضاب استعمال کیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6224
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6224] [ترقيم الشركة 6161]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: بنت أبي سفيان، بزيادة لفظ "أبي" وهو خطأ، والتصويب من "نسب قريش" لمصعب الزبيري، وانظر كذلك "جمهرة أنساب العرب" لابن حزم ص 78 - 79.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "بنت ابی سفیان" لکھا ہے جس میں لفظ 'ابی' کا اضافہ غلطی ہے؛ اس کی تصحیح مصعب زبیری کی "نسب قریش" اور ابن حزم کی "جمہرہ انساب العرب" (ص 78-79) سے کی گئی ہے۔
(2) انظر "نسب قريش" لمصعب ص 263. وليس فيه قصة خضاب سعد بالسواد، وقد سلفت من غير هذا الوجه برقم (6219).
حوالہ / مصدر: دیکھیں مصعب زبیری کی "نسب قریش" (ص 263)۔
نوٹ / توضیح: اس میں حضرت سعد کے سیاہ خضاب لگانے کا قصہ موجود نہیں ہے، جبکہ یہ قصہ دوسرے طریق سے پہلے رقم (6219) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6224 سے ماخوذ ہے۔