کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو مرثد غنوی کناز بن حصین عدوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — قبروں پر نہ بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھنے کی ممانعت
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبَهاني، حَدَّثَنَا ابن رُستَهْ، حَدَّثَنَا سليمان بن داود، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، قال: مات أبو مَرثَدٍ الغَنَوِي كَنّاز بن الحُصَين حليفُ حمزةَ بن عبد المطّلب (2) بالمدينة في خلافة أبي بكر الصِّدّيق سنة اثنتَي عشرةَ (3). وقال غيرُه: بل قُتل بأجنادِينَ (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف ابو مرثد غنوی کناز بن حصین رضی اللہ عنہ کی وفات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن بارہ ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی، جبکہ بعض دیگر مؤرخین کا کہنا ہے کہ وہ مقام اجنادین میں شہید ہوئے تھے۔
أخبرنا أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقفي، أخبرني أبو يونس المَديني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن المُنذر، قال: مات أبو مرثد الغَنَوي كَنّازُ بنُ الحُصين حليف حمزة بن عبد المطلب، ودفن بالمدينة في خلافة أبي بكر الصِّدِّيق في سنة ثنتَي عشرةَ (2).
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن منذر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب کے حلیف سیدنا ابومرثد غنوی کناز بن حصین رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن 12 ہجری میں وفات پائی اور وہ مدینہ منورہ میں مدفن ہیں۔
أخبرنا (3) أبو جعفر البَغدادي، حَدَّثَنَا أبو عُلَاثة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُرْوة، في تسمية مَن شهد بدرًا [مع] (4) رسول الله ﷺ: أبو مَرثَدٍ الغَنَوي حليفُ حمزةَ بن عبد المطلب.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کے ناموں کی فہرست میں مروی ہے کہ ان میں سیدنا حمزہ بن عبد المطلب کے حلیف سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔
أخبرني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، سمعتُ مصعبَ بن عبد الله الزُّبَيري يقول: مات أبو مَرثَدٍ الغَنَوي في سنة اثنتي عشرة من الهجرة، وهو ابن ستٍّ وستين سنةً.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبد اللہ زبیری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے بارہویں سال وفات پائی جبکہ ان کی عمر چھیاسٹھ برس تھی۔
أخبرني أحمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا، حَدَّثَنَا خليفة بن خَيَّاط قال: أبو مَرثَد الغَنَوي اسمُه كَنَّاز بن حُصَين بن يَربُوع بن عَمرو بن يربوعِ بن خَرَشَةَ بن سعد بن طَرِيفِ بن حُلّان (5) بن غَنْم [بن غَنِيّ] بن أَعْصُر بن سعد بن قَيس عَيْلان.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کا اسمِ گرامی کناز بن حصین بن یربوع بن عمرو بن یربوع بن خرشہ بن سعد بن طریف بن حلان بن غنم (بن غنی) بن اعصر بن سعد بن قیس عیلان ہے۔
........... (1).
حافظ طلحہ بابر
(اس مقام پر متن موجود نہیں ہے)۔
أخبرنا (2) الحَسن (3) بن حَليم، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني بُسْر بن عُبيد الله، سمعت أبا إدريسَ الخَوْلاني، يقول: سمعتُ واثِلةَ بن الأسْقَع يقول: سمعتُ أبا مَرثَدٍ الغَنَوي يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا تَجلِسُوا على القُبور، ولا تُصَلُّوا إليها" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4969 - حذفه الذهبي لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4969 - حذفه الذهبي لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔“
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا هارون بن سليمان الأصبهاني، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهدي، حَدَّثَنَا ابن المبارك، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، سمعت بُسْر بن عُبيد الله الحَضْرمي، سمعت أبا إدريسَ الخَوْلانيَّ يقول: سمعتُ واثلةَ بن الأسْقَع، سمعت أبا مَرثَدٍ الغَنَوي يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "لا تَجلِسُوا على القُبور، ولا تُصَلُّوا إليها (1) ". صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (2)! وقد تفرَّد عبد الله بن المبارك بذِكْر أبي إدريسَ الخَولانيِّ فيه بين بُسر بن عُبيد الله وواثلة، فقد رواه بِشر بن بكر والوليد بن مَزْيَد (1)، عن بسر، سمعتُ واثلةَ بن الأسقَع. أما حديث بِشْر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی سند میں عبداللہ بن مبارک نے بسر بن عبید اللہ اور واثلہ کے درمیان ابو ادریس خولانی کا ذکر کرنے میں تفرد کیا ہے، جبکہ اسی روایت کو بشر بن بکر اور ولید بن مزید نے بسر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے (براہِ راست) واثلہ بن اسقع سے سنا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی سند میں عبداللہ بن مبارک نے بسر بن عبید اللہ اور واثلہ کے درمیان ابو ادریس خولانی کا ذکر کرنے میں تفرد کیا ہے، جبکہ اسی روایت کو بشر بن بکر اور ولید بن مزید نے بسر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے (براہِ راست) واثلہ بن اسقع سے سنا۔
فحدَّثَناهُ أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر، حَدَّثَنَا بشر بن بَكْر، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن بُسر بن عُبيد الله، سمعت واثلةَ بن الأسْقَع صاحبَ النَّبِيّ ﷺ، يقولُ: [سمعت أبا مَرثَدٍ الغَنَويَّ يقول] (2): "لا تَجلِسُوا على القبور، ولا تُصَلُّوا إليها" (3). وقد تابعه صَدَقةُ بن خالد عليه:
حافظ طلحہ بابر
صحابیِ رسول سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔“ اور صدقہ بن خالد نے بھی اس روایت میں ان کی متابعت کی ہے۔
حدثناه أحمد بن عبيد الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحُسين، حَدَّثَنَا أبو مُسهِرٍ، حَدَّثَنَا صَدَقة بن خالد، عن ابن جابر، عن بُسر بن عُبيد الله، سمعت واثلةَ بنَ الأسقع، سمعت أبا مَرثَد الغَنَوي يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا تَجلِسُوا على القبور، ولا تُصَلُّوا إليها" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔“