المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا باب: سیدنا ابو مرثد غنوی کناز بن حصین عدوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — قبروں پر نہ بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 5042
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا هارون بن سليمان الأصبهاني، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهدي، حَدَّثَنَا ابن المبارك، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، سمعت بُسْر بن عُبيد الله الحَضْرمي، سمعت أبا إدريسَ الخَوْلانيَّ يقول: سمعتُ واثلةَ بن الأسْقَع، سمعت أبا مَرثَدٍ الغَنَوي يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "لا تَجلِسُوا على القُبور، ولا تُصَلُّوا إليها (1) ". صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (2)! وقد تفرَّد عبد الله بن المبارك بذِكْر أبي إدريسَ الخَولانيِّ فيه بين بُسر بن عُبيد الله وواثلة، فقد رواه بِشر بن بكر والوليد بن مَزْيَد (1)، عن بسر، سمعتُ واثلةَ بن الأسقَع. أما حديث بِشْر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی سند میں عبداللہ بن مبارک نے بسر بن عبید اللہ اور واثلہ کے درمیان ابو ادریس خولانی کا ذکر کرنے میں تفرد کیا ہے، جبکہ اسی روایت کو بشر بن بکر اور ولید بن مزید نے بسر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے (براہِ راست) واثلہ بن اسقع سے سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح كسابقه.
درجۂ حدیث: پچھلی حدیث کی طرح یہ بھی "صحیح" ہے۔
(2) بل قد أخرجه مسلم كما تقدم، فلا يستدرك عليه.
فنی نکتہ / علّت: چونکہ امام مسلم اسے اپنی صحیح میں تخریج کر چکے ہیں، اس لیے اس پر (مستدرک کے طور پر) استدراک کی ضرورت نہیں رہتی۔
(1) رواية الوليد بن مَزْيَد هذه عند أبي عوانة في "صحيحه" (1179)، والبيهقي في "السنن" 4/ 79، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 10/ 160.
حوالہ / مصدر: ولید بن مَزید کی یہ روایت ابوعوانہ (1179)، بیہقی (4/79) اور ابن عساکر (10/160) کے ہاں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: پچھلی حدیث کی طرح یہ بھی "صحیح" ہے۔
(2) بل قد أخرجه مسلم كما تقدم، فلا يستدرك عليه.
فنی نکتہ / علّت: چونکہ امام مسلم اسے اپنی صحیح میں تخریج کر چکے ہیں، اس لیے اس پر (مستدرک کے طور پر) استدراک کی ضرورت نہیں رہتی۔
(1) رواية الوليد بن مَزْيَد هذه عند أبي عوانة في "صحيحه" (1179)، والبيهقي في "السنن" 4/ 79، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 10/ 160.
حوالہ / مصدر: ولید بن مَزید کی یہ روایت ابوعوانہ (1179)، بیہقی (4/79) اور ابن عساکر (10/160) کے ہاں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5042 سے ماخوذ ہے۔