کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا ابو مرثد غنوی کناز بن حصین عدوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا السَّرِيّ بن خُزيمة، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن داود الحَرّاني، حَدَّثَنَا حماد سَلَمة بن عن محمد بن عمرو الليثي، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ امرأةً يهوديةً دَعَتِ النَّبِيَّ ﷺ وأصحابًا له على شاةٍ مَصْليّة، فلما قَعَدوا يأكُلُون أخذَ رسولُ الله ﷺ لُقمةٌ فوضَعَها، ثم قال لهم: "أمسِكُوا، إِنَّ هذه الشاةَ مَسمُومةٌ" فقال لليهودية: "ويلَكِ، لأيِّ شيءٍ سَمَمْتِني؟! " قالت: أردتُ أن أَعلمَ إن كنتَ نبيًّا، فإنه لا يَضرُّك، وإن كان غيرَ ذلك أن أُريحَ الناسَ مِنك، فأكَلَ منها بِشرُ بن البَراء فمات، فقتَلَها رسولُ الله ﷺ (1) صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب أبي مَرْثَد كَنّاز بن الحُصَين الغَنَوي (1) وقيل: كَنّاز بن حِصْن (2) بن يَربُوع، كان رسول الله ﷺ آخَى بينه وبين عُبادة بن الصامِت، شَهِدَ بدرًا وأُحدًا والخندق، وهو أبو مَرثَدِ بن أَبي مَرثَدٍ، أَمَّره (3) رسول الله ﷺ على السَرِيّة التي وجَّهها إلى الرَّجِيع فقُتِل بها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4967 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے چند صحابہ کو بھنی ہوئی بکری کے گوشت کی دعوت دی، پس جب وہ کھانے کے لیے بیٹھے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک لقمہ لیا اور اسے (منہ سے نکال کر) رکھ دیا، پھر ان سے فرمایا: ”رک جاؤ، یقیناً اس بکری میں زہر ہے،“ پھر اس یہودی عورت سے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! تو نے مجھے زہر کیوں دیا؟“ اس نے کہا: ”میں جاننا چاہتی تھی کہ اگر آپ واقعی اللہ کے نبی ہیں تو یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر آپ نبی نہیں ہیں تو میں لوگوں کو آپ سے راحت دلا دوں گی،“ پس اس گوشت میں سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ نے کھا لیا تھا جس کی وجہ سے وہ وفات پا گئے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو (قصاص میں) قتل کروا دیا۔
(ابو مرثد کناز بن حصین غنوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا تذکرہ) اور کہا گیا ہے کہ وہ کناز بن حصن بن یربوع ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا، وہ غزوہ بدر، احد اور خندق میں شریک ہوئے، اور وہ ابو مرثد بن ابی مرثد کے والد ہیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس سریہ کا امیر بنایا تھا جسے مقام رجیع کی طرف بھیجا گیا اور وہاں وہ شہید ہوئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5033
درجۂ حدیث محدثین: رجاله لا بأس بهم
تخریج حدیث «رجاله لا بأس بهم، لكنه اختُلف في وصلِه وإرسالِه عن محمد بن عَمرو اللَّيثي - وهو ابن علقمة - فقد رواه عنه حماد بن سلمة وعبّاد بن العوام موصولًا بذكر أبي هريرة، ورواه عنه خالد بن عبد الله الطحّان وجعفر بن عون، فأرسله لم يذكر فيه أبا هريرة.» [ترقيم الرساله 5033] [ترقيم الشركة 4998] [ترقيم العلميه 4967]
أخبرنا بجميع ما ذكرته أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، عن شُيوخه (1).
حافظ طلحہ بابر
ان تمام مذکورہ بالا واقعات کی خبر ہمیں ابوعبداللہ اصفہانی نے اپنے شیوخ کے واسطے سے دی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5034
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5034] [ترقيم الشركة 4998/1]