المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا باب: سیدنا ابو مرثد غنوی کناز بن حصین عدوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — قبروں پر نہ بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 5036
أخبرنا أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقفي، أخبرني أبو يونس المَديني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن المُنذر، قال: مات أبو مرثد الغَنَوي كَنّازُ بنُ الحُصين حليف حمزة بن عبد المطلب، ودفن بالمدينة في خلافة أبي بكر الصِّدِّيق في سنة ثنتَي عشرةَ (2).
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن منذر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب کے حلیف سیدنا ابومرثد غنوی کناز بن حصین رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن 12 ہجری میں وفات پائی اور وہ مدینہ منورہ میں مدفن ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وافق إبراهيمُ بنُ المنذر في ذلك قولَ محمد بن عُمر الواقديّ الذي تقدَّم قبله، وقولَ مصعبِ بن عبد الله الزُّبيري الآتي برقم (5038). أبو يونس المديني: هو محمد بن أحمد بن يزيد بن عبد الله، مفتي أهل المدينة.
اہم نکتہ: ابراہیم بن المنذر نے اس معاملے میں واقدی اور مصعب زبیری کے قول کی موافقت کی ہے۔
نوٹ / توضیح: ابویونس المدینی سے مراد محمد بن احمد بن یزید ہیں جو مدینہ کے مفتی تھے۔
اہم نکتہ: ابراہیم بن المنذر نے اس معاملے میں واقدی اور مصعب زبیری کے قول کی موافقت کی ہے۔
نوٹ / توضیح: ابویونس المدینی سے مراد محمد بن احمد بن یزید ہیں جو مدینہ کے مفتی تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5036 سے ماخوذ ہے۔