المستدرك على الصحيحين

كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان

ذِكْرُ مَنَاقِبِ مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ قُتِلَ مَعَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ وَكَانُوا سِتَّةَ نَفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ باب: سیدنا ابومرثد الغنوی کناز بن الحصین العدوی رضی اللہ عنہ کے فضائلبعض لوگوں نے ان کا نام کناز بن حصن بن یربوع بتایا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے مابین عقد مواخات قائم فرمایا تھا ( یعنی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب مہاجرین اور انصاری صحابہ کرام کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا گیا تو حضرت کناز بن حصین رضی اللہ عنہ اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بھائی بھائی بنایا ) یہ جنگ بدر ، جنگ احد اور خندق میں شریک ہوئے ۔ اور مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا تھا جس کو رجیع کی جانب بھیجا تھا ، وہ وہاں پر شہید ہو گئے تھے ۔

حدیث نمبر: 5045
حَدَّثَنَا مَكِّي بن بُندار الزَّنْجاني ببغداد، حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن يحيى بن خالد بن عمرو بن يحيى بن حمزة الدِّمشقي، حدثني أحمد بن محمد بن يحيى ابن حمزة، حدثني أبي، عن أبيه: وبَلَغني عن أبي كَبْشة السَّلُولي، عن أبي مَرثَدٍ الغَنَوي: أنَّ النَّبِيّ ﷺ بعثه حارِسًا، حتَّى إذا كان في وجْهِ الصُّبح أقبل، فقال النَّبِيّ ﷺ: "هذا صاحبُكم قد أقبل يَقطَعُ عليكُم"، ثم أتى النَّبِيَّ ﷺ، فقال: "أنزلْتَ الليلةَ عن فَرسِك؟ " قال: لا والله يا نبيَّ الله، إِلَّا قاضيَ حاجةٍ، فقال النَّبِيُّ ﷺ: "لا تُبالِ أن لا تَعمَلَ بعد هذا". قال يحيى بن حمزة: فذكرتُ هذا الحديثَ لأبي عمرو الأوزاعي، فحدَثني الأوزاعيُّ أنَّ حسانَ بن عَطيّة كان يُحدَّث بذلك (1). هذه فضيلةٌ سَنِيّةٌ لأبي مَرثدٍ الغَنَوي، تفرَّد به أولادُ يحيى بن حمزة الدمشقي عن آبائهم عن الأوزاعيّ، وكلُّهم ثقات! ذكرُ مناقب مَرْثَد بن أبي مَرَثَدٍ الغَنوي قُتِل مع عاصم بن عَدِيٍّ، وكانوا ستةَ نفرٍ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4977 - رواته ثقات
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو کبشہ سلولی رضی اللہ عنہ سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں بطور نگہبان (پہرے دار) روانہ فرمایا، یہاں تک کہ جب صبح کا وقت ہوا تو وہ واپس آگئے، تب نبی کریم ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا: ”یہ تمہارے ساتھی آگئے ہیں جو تمہارے لیے (رات بھر) مشقت اٹھا کر آئے ہیں۔“ پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم آج رات اپنے گھوڑے سے نیچے اترے تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں اے اللہ کے نبی! اللہ کی قسم، سوائے رفع حاجت کے میں نیچے نہیں اترا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اس (عمل) کے بعد کوئی (مزید نفلی) عمل نہ بھی کرو تو تمہیں کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔“ یحییٰ بن حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا تذکرہ امام اوزاعی سے کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ حسان بن عطیہ بھی یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے۔
یہ سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کی ایک عظیم الشان فضیلت ہے، جسے یحییٰ بن حمزہ دمشقی کی اولاد نے اپنے آباؤ اجداد کے واسطے سے امام اوزاعی سے روایت کرنے میں تفرد کیا ہے اور یہ سب ثقہ راوی ہیں۔ نیز مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر ہے جو سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوئے تھے اور وہ کل چھ افراد تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5045
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة ، وهو الدمشقي - وقد كان صاحب مناكير ويُلقَّن ما ليس من حديثه حين كبر، وقال ابن حبان في "الثقات" في ترجمة أبيه محمد بن يحيى بن حمزة: هو ثقة في نفسه، يُتَّقى من حديثه ما رواه عنه أحمد بن ...» [ترقيم الرساله 5045] [ترقيم الشركة 5008] [ترقيم العلميه 4977]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة - وهو الدمشقي - وقد كان صاحب مناكير ويُلقَّن ما ليس من حديثه حين كبر، وقال ابن حبان في "الثقات" في ترجمة أبيه محمد بن يحيى بن حمزة: هو ثقة في نفسه، يُتَّقى من حديثه ما رواه عنه أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة وأخوه عبيد، فإنهما كانا يُدخلان عليه كلْ شيءٍ.
درجۂ حدیث: سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: احمد بن محمد بن یحییٰ الدمشقی ضعیف ہے، وہ منکر روایات بیان کرتا تھا اور بڑھاپے میں اسے تلقین کی جاتی تھی (یعنی دوسروں کی باتیں اپنی سند سے بیان کر دیتا تھا)۔ اس کے والد محمد بن یحییٰ ثقہ تھے لیکن ان کے بیٹوں احمد اور عبید کی وجہ سے ان کی روایات میں احتیاط لازم ہے کیونکہ وہ والد کی روایات میں غیر متعلقہ چیزیں داخل کر دیتے تھے۔
والراوي عنه هنا أبو الحسن محمد بن يحيى بن خالد بن عمرو بن يحيى بن حمزة لا يُدرى من هو، فلم يرد في غير هذا الإسناد، فهو مجهول العين.
فنی نکتہ / علّت: اس سند میں ایک راوی ابوالحسن محمد بن یحییٰ بن خالد بن عمرو ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں، وہ صرف اسی سند میں نظر آتے ہیں، لہذا وہ "مجہول العین" ہیں۔
والمحفوظ في هذا الحديث أنه من رواية أبي كَبْشة السَّلُولي عن سهل بن الحَنْظلية أنَّ صاحب هذه القصة إنما هو أنس - وقيل: أُنيس - بن أبي مرثد الغَنَوي كما تقدَّم ذلك بإسناد صحيح برقم (784) و (2464)، فليس هذا الحديثُ إذًا لأبي مرثدٍ الغَنَوي، وليس هو في فضل أبي مرثدٍ أيضًا، بل في فضل ابنه أنسٍ، والله الموفِّق.
فنی نکتہ / علّت: اس حدیث میں "محفوظ" (صحیح ثابت) بات یہ ہے کہ یہ ابوکبشہ السلولی عن سہل بن الحنظلیہ کی روایت سے ہے، اور اس قصے کے اصل صاحب حضرت انس رضی اللہ عنہ (اور ایک قول کے مطابق اُنیس) بن ابی مرثد الغنوی ہیں، جیسا کہ یہ بات صحیح سند کے ساتھ پیچھے نمبر (784) اور (2464) پر گزر چکی ہے۔
اہم نکتہ: لہٰذا یہ حدیث ابومرثد الغنوی کی نہیں ہے اور نہ ہی ان کی فضیلت میں ہے، بلکہ یہ ان کے بیٹے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ہے۔ واللہ الموفق۔
(2) عنوان هذه الترجمة جاء في نسخنا الخطية مقدَّمًا إلى ما قبل الرواية (5037)، ومحلُّه اللائق به هنا، فهذا أوانُ شروع المصنّف بمناقب مرثد بن أبي مرثد.
نوٹ / توضیح: اس ترجمۃ الباب (عنوان) کا محل قلمی نسخوں میں روایت نمبر (5037) سے پہلے آ گیا تھا، جبکہ اس کی اصل اور مناسب جگہ یہی ہے، کیونکہ یہاں سے مصنف (امام حاکم) حضرت مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کے مناقب کا آغاز کر رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5045 سے ماخوذ ہے۔