حدثني إسحاق بن محمد بن علي الهاشمي بالكوفة، حدثنا الحسين بن الحكم الحِبَري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زكريا بن أبي زائدة، عن فراس، عن الشعبي، عن مسروق، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ قال وهو في مَرَضِه الذي تُوفِّيَ فيه: "يا فاطمه، ألا تَرضَينَ أنكِ سيدة نساء العالمين، وسيدة نساء هذه الأمة، وسيدة نساء المؤمنين؟! " (3). هذا إسناد صحيح، ولم يخرجاه هكذا.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی، ارشاد فرمایا: ”اے فاطمہ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار، اس امت کی عورتوں کی سردار اور تمام مومن عورتوں کی سردار ہو؟!“
یہ اسناد صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔
یہ اسناد صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا شاذَانُ الأسود بن عامر، حدثنا جعفر بن زياد الأحمر، عن عبد الله بن عطاء، عن ابن بُريدة، عن أبيه، قال: كان أحبَّ النساء إلى رسول الله ﷺ فاطمة، ومن الرجال عليٌّ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو خواتین میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں اور مردوں میں علی رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا حسين بن عيّاش، حدثنا زُهير، عن سليمان، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: أتت فاطمة رسول الله ﷺ تسأله خادمًا فقال لها: "الذي جئتِ تطلبين أحبُّ إليك أم خَيرٌ منه؟ " قال: فحسبتُ أنها سألت عليًّا، قال: قولي: ما هو خيرٌ منه، قال: "قولي: اللهم رب السماوات [السبع و] (2) ربَّ العرش العظيم، ربَّنا وربَّ كلِّ شيءٍ، مُنزِل التوراة والإنجيل والقرآن، فالقَ الحَبِّ والنوى، أعوذ بك من شَرِّ كلِّ شيءٍ أنتَ آخِذٌ بناصيته، أنتَ الأوّل فليس قبلك شيءٌ، وأنتَ الآخِرُ فليس بعدك شيءٌ، وأنت الظاهرُ فليس فوقك شيءٌ، وأنت الباطِنُ فليس دُونَك شيء، اقض عنا الدين، وأغننا من الفَقْر" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4741 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4741 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک خادم طلب کرنے کے لیے آئیں، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جس چیز کو تم مانگنے آئی ہو کیا وہ تمہیں زیادہ محبوب ہے یا وہ جو اس سے بہتر ہے؟“ انہوں نے کہا (راوی کا خیال ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا)، پھر عرض کیا: مجھے وہ بتائیے جو اس سے بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب اور عرشِ عظیم کے رب، ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، تورات، انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے، دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تو نے تھام رکھی ہے، تو ہی اول ہے پس تجھ سے پہلے کچھ نہیں، تو ہی آخر ہے پس تیرے بعد کچھ نہیں، تو ہی ظاہر ہے پس تجھ سے اوپر کچھ نہیں اور تو ہی باطن ہے پس تیرے سوا (قریب تر) کچھ نہیں، ہمارا قرض ادا کر دے اور ہمیں فقر و تنگدستی سے بچا کر غنی کر دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
أخبرني أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا وَضاح بن يحيى النَّهْشَلي، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن فاطمة، قالت: اجتمعَ مُشرِكُو قُريشٍ في الحِجْر، فقالوا: إذا مَرَّ محمد ضَرَبَه كلُّ رجل منا ضربةً. فسمعته، فدخلت على أبيها، فقالت: يا أبت اجتمع مُشرِكو قريش، فقال: "يا بُنيَّة، اسكني"، ثم خرج فدخل عليهم المسجد، فرفعوا رؤوسهم ثم نكسُوا، فأخذ قَبْضةً من تُرابٍ، فرَمَى به نحوهم، ثم قال: "شَاهَتِ الوُجُوهُ"، فما أصابَ رجلًا منهم إِلَّا قُتِل يوم بدر (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4742 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4742 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ قریش کے مشرکین حجر (حطیم) میں جمع ہوئے اور کہنے لگے: جب محمد (ﷺ) یہاں سے گزریں گے تو ہم میں سے ہر شخص انہیں ایک ایک ضرب لگائے گا۔ سیدہ (فاطمہ رضی اللہ عنہا) نے یہ بات سن لی اور اپنے والد کے پاس جا کر عرض کیا: اے اباجان! قریش کے مشرک جمع ہو گئے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بیٹی! تم سکون رکھو“، پھر آپ ﷺ باہر نکلے اور مسجد حرام میں ان کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے (آپ کو دیکھ کر) اپنے سر اٹھائے پھر شرمندگی سے جھکا لیے، آپ ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لی اور ان کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا: «شاهت الوجوه» ”یہ چہرے بگڑ جائیں“، پس ان میں سے جس شخص کو بھی وہ مٹی لگی، وہ جنگِ بدر کے دن مارا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن القاسم الذُّهْلي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد الفِرْيابي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا عمر بن صالح الدمشقي، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن أم أيمن الأنصارية (2)، قالت: زَوَّجَ رسول الله ﷺ ابنته فاطمة علي بن أبي طالب، وأمَرَه أن لا يدخُلَ على فاطمة حتى يجيئه، وذكر الحديثَ (3). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4743 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4743 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
سیدہ امِ ایمن انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت تک نہ جائیں جب تک آپ ﷺ خود تشریف نہ لے آئیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر بن أبي دارم، حدثنا إبراهيم بن عبد الله العَبسي، حدثنا مالك بن إسماعيل النهدي، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، عن أبي الجَحاف، عن جميع بن عُمير، قال: دخلتُ مع عمتي على عائشة، فسُئلت: أيُّ الناسِ كان أحبَّ إلى رسول الله ﷺ؟ قالت: فاطمه، قيل: فمن الرجال؟ قالت: زوجُها، إن كان ما عَلِمتُه صَوّامًا قوامًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4744 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4744 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
جمیع بن عمیر سے روایت ہے کہ میں اپنی پھوپھی کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ انہوں نے فرمایا: فاطمہ (رضی اللہ عنہا)۔ پوچھا گیا: اور مردوں میں؟ فرمایا: ان کے شوہر، جہاں تک میں جانتی ہوں وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور راتوں کو قیام کرنے والے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد، أخبرنا عبد الرزاق. وأخبرني أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن سَلَمة وعبد الله بن محمد، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أنا مَعمَر، عن قَتَادة عن أنس، أنَّ النبي ﷺ قال: "حَسْبُكَ من نِساء العالمين أربعٌ: مريمُ بنتُ عمران، وآسيةُ امرأةُ فِرعَونَ، وخَديجة بنتُ خُوَيلد، وفاطمة بنتُ محمّد" (1). هذا الحديث في "المسند" لأبي عبد الله أحمد بن حنبل هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4745 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4745 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے دنیا کی تمام عورتوں میں سے چار (کمال کے درجے پر) کافی ہیں: مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی آسیہ، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد۔“ یہ حدیث ابوعبداللہ احمد بن حنبل کی ”مسند“ میں اسی طرح موجود ہے۔
وأخبرناه أبو بكر القَطِيعي في "فضائل أهل البيت" تصنيف أبي عبد الله أحمد بن حنبل، حدثنا عبد الله بن أحمد، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن أنس بن مالك، أنَّ النبي ﷺ قال: "حَسْبُكَ من نساء العالمين: مريم بنت عمران (1)، وخَديجة بنتُ خُوَيلد، وفاطمة بنت محمد" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، فإن قوله ﷺ: "حسبُكَ من نساء العالمين" يُسوِّي بين نساء الدنيا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4746 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، فإن قوله ﷺ: "حسبُكَ من نساء العالمين" يُسوِّي بين نساء الدنيا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4746 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے دنیا کی تمام عورتوں میں سے (کمال کے درجے پر) مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد کافی ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ ”تمہارے لیے جہانوں کی عورتوں میں سے کافی ہیں“ دنیا کی عورتوں کے درمیان (مرتبے میں) برابری کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ ”تمہارے لیے جہانوں کی عورتوں میں سے کافی ہیں“ دنیا کی عورتوں کے درمیان (مرتبے میں) برابری کو ظاہر کرتا ہے۔