کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر جاتے تو سب سے آخر میں جس سے رخصت ہوتے وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں
حدثنا أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مُكرم ابن أخي الحسن بن مُكرَم البَزّاز ببغداد، حدثنا مُسلم بن عيسى الصَّفّار العسكري، حدثنا عبد الله بن داود الخُرَيبي، حدثنا شهاب بن حَرْب عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ: "ليلة أُسريَ بي أتاني جبريل ﵇ بسَفَرجَلةٍ من الجنة، فأكلتُها، فعَلِقَتْ خديجة بفاطمة، فكنتُ إذا اشتقتُ إلى رائحة الجنةِ شَمَمْت رقبة فاطمة" (1).
هذا حديث غريب الإسناد والمتن، وشهابُ بن حَرْب مجهولٌ، والباقون من رواته ثِقات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4738 - من وضع مسلم بن عيسى الصفار
هذا حديث غريب الإسناد والمتن، وشهابُ بن حَرْب مجهولٌ، والباقون من رواته ثِقات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4738 - من وضع مسلم بن عيسى الصفار
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میرے پاس جبرائیل علیہ السلام جنت کا ایک سفرجل (بہی) لے کر آئے، میں نے اسے کھایا، پس خدیجہ (رضی اللہ عنہا) فاطمہ (رضی اللہ عنہا) سے حاملہ ہوئیں، اب میں جب بھی جنت کی خوشبو کا مشتاق ہوتا ہوں تو فاطمہ کی گردن سونگھ لیتا ہوں۔“
یہ حدیث اسناد اور متن کے لحاظ سے غریب ہے، اس کے راوی شہاب بن حرب مجہول ہیں جبکہ باقی راوی ثقہ ہیں۔
یہ حدیث اسناد اور متن کے لحاظ سے غریب ہے، اس کے راوی شہاب بن حرب مجہول ہیں جبکہ باقی راوی ثقہ ہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، يحيى بن إسماعيل الواسطي، حدثنا محمد بن فُضيل، عن العلاء بن المسيب، عن إبراهيم قُعَيس، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ كان إذا سافَرَ كان آخر الناس عهدًا به فاطمة، وإذا قَدِمَ من سفر كان أول الناس به عهدًا فاطمة (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو (اپنے اہل خانہ میں سے) سب سے آخر میں جس سے ملاقات کر کے رخصت ہوتے وہ سیدہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) ہوتیں اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے جن کے پاس تشریف لاتے وہ بھی سیدہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) ہوتیں۔
أخبرنيه الحسين بن علي التميمي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن أحمد بن المعلّى الأدمي بالبصرة، حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا أبو عوانة، عن العلاء بن المسيَّب، عن إبراهيم قُعَيس، فذكر بإسناده نحوه، وزاد فيه: فقال لها رسول الله ﷺ: "فداك أبي وأمي" (2). رواة هذا الحديث عن آخرهم في "الصحيح" غير إبراهيم قُعيس.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4739 - إبراهيم قعيس ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4739 - إبراهيم قعيس ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پچھلی حدیث کی طرح ہی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) سے فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔“
اس حدیث کے تمام راوی سوائے ابراہیم قعیس کے ”صحیح“ (بخاری و مسلم)کے راوی ہیں۔
اس حدیث کے تمام راوی سوائے ابراہیم قعیس کے ”صحیح“ (بخاری و مسلم)کے راوی ہیں۔