حدیث نمبر: 4797
أخبرني أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا وَضاح بن يحيى النَّهْشَلي، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن فاطمة، قالت: اجتمعَ مُشرِكُو قُريشٍ في الحِجْر، فقالوا: إذا مَرَّ محمد ضَرَبَه كلُّ رجل منا ضربةً. فسمعته، فدخلت على أبيها، فقالت: يا أبت اجتمع مُشرِكو قريش، فقال: "يا بُنيَّة، اسكني"، ثم خرج فدخل عليهم المسجد، فرفعوا رؤوسهم ثم نكسُوا، فأخذ قَبْضةً من تُرابٍ، فرَمَى به نحوهم، ثم قال: "شَاهَتِ الوُجُوهُ"، فما أصابَ رجلًا منهم إِلَّا قُتِل يوم بدر (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4742 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ قریش کے مشرکین حجر (حطیم) میں جمع ہوئے اور کہنے لگے: جب محمد (ﷺ) یہاں سے گزریں گے تو ہم میں سے ہر شخص انہیں ایک ایک ضرب لگائے گا۔ سیدہ (فاطمہ رضی اللہ عنہا) نے یہ بات سن لی اور اپنے والد کے پاس جا کر عرض کیا: اے اباجان! قریش کے مشرک جمع ہو گئے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بیٹی! تم سکون رکھو“، پھر آپ ﷺ باہر نکلے اور مسجد حرام میں ان کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے (آپ کو دیکھ کر) اپنے سر اٹھائے پھر شرمندگی سے جھکا لیے، آپ ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لی اور ان کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا: «شاهت الوجوه» ”یہ چہرے بگڑ جائیں“، پس ان میں سے جس شخص کو بھی وہ مٹی لگی، وہ جنگِ بدر کے دن مارا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4797
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل وضاح بن يحيى النهشَلي، وقد توبع فيما تقدم برقم (592).» [ترقيم الرساله 4797] [ترقيم الشركة 4770] [ترقيم العلميه 4742]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل وضاح بن يحيى النهشَلي، وقد توبع فيما تقدم برقم (592).
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند "متابعات" (شواہد) میں حسن کے درجے کی ہے جس کی وجہ راوی "وضاح بن یحییٰ النہشلی" ہیں، اور نمبر (592) کے تحت ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4797 سے ماخوذ ہے۔