أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن أبي الزُّبير، عن علي بن عبد الله البارِقي، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ كان إذا سافَرَ فرَكِبَ راحلتَه، كبَّر ثلاثًا ثم قال: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ (13) وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [الزخرف: 13] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3004 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3004 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے اور اپنی سواری پر بیٹھتے تو تین مرتبہ «الله أكبر» کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور بے شک ہمیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ [سورة الزخرف: 13]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن علي المَعمَري، حدثنا أبو مصعب الزُّهْري وهشام بن عمار السُّلَمي، قالا: حدثنا حاتم ابن إسماعيل، حدثنا معاوية بن أبي مُزرِّد مولى بني هاشم، حدثني عمِّي أبو الحُباب سعيد بن يسار، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ: "إنَّ الله خَلَقَ الخلقَ، حتى إذا فَرَغَ منهم قامت الرَّحِمُ فقالت: هذا مَقامُ العائذِ بك من القَطِيعة، قال: نعم، أما تَرضَيْن أن أَصِلَ من وَصَلَكِ، وأقطَعَ من قَطَعَكِ؟ قالت: بلى، قال: فذاكِ لكِ" قال: ثم قال رسول الله ﷺ: "اقرؤوا إن شئتم: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ إلى قوله: ﴿أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا﴾ [محمد: 22 - 24] " (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3005 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3005 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، جب وہ اس سے فارغ ہوا تو رحم (رشتہ داری) نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یہ مقام اس کا ہے جو تجھ سے قطع رحمی سے پناہ مانگتا ہے، اللہ نے فرمایا: ہاں، کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میں اس سے جڑوں جو تجھ سے جڑے اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے؟ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں (اے رب!)، اللہ نے فرمایا: تو یہ تیرے لیے ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اس آیت تک تلاوت فرمائی: ﴿أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا﴾ ”پھر تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کرو اور اپنے رشتے ناتے توڑ ڈالو... یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔“ [سورة محمد: 22 - 24]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو عمرو بن أبي جعفر الحِيرِي، حدثنا حامد بن محمد بن شعيب، حدثنا حفص بن عمر الدُّورِي، حدثنا حمزة بن القاسم، عن أبي الهيثم سعيد بن الحَكَم، عن نُفَيع أبي داود، عن عبد الله بن مُغفَّل قال: سمعت النبيَّ ﷺ يقرأ: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ﴾ (محمد: 22) (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3006 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3006 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ آیت تلاوت فرماتے ہوئے سنا: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ﴾ ”پھر تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تمہیں اقتدار مل جائے تو تم زمین میں فساد مچاؤ۔“ [سورة محمد: 22]
أخبرني أبو بكر محمد بن داود الزاهد، حدثنا أبو القاسم العبَّاس بن الفضل بن شاذانَ المقرئ، حدثنا أَبي، حدثنا محمد بن عيسى المقرئ، حدثنا أبو نُعيم وقَبيصة، قالا: حدثنا سفيان، عن أبي الزُّبير عن جابر بن عبد الله قال: قرأَ رسول الله ﷺ: ﴿فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ (21) لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ﴾ بالصاد ﴿إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ﴾ [الغاشية: 21 - 23] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3007 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3007 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ﴾ یہاں لفظ «بِمُصَيْطِرٍ» کو صاد کے ساتھ تلاوت فرمایا، ﴿إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ﴾ ”پس آپ نصیحت کریں، آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں، مگر جس نے منہ پھیرا اور کفر کیا۔“ [سورة الغاشية: 21 - 23]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا يوسف بن موسى المَروَرُّوذي، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا أبو مُطرِّف، عن سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ كان يقرأ: (كلَّا بل لا يُكرمُون اليتيم. ولا يَحُضُّونَ على طَعامِ المِسْكينِ) [الفجر:17 - 18]؛ (ويأكلون … ويُحِبُّون)؛ كلها بالياء (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3008 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3008 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان آیات مبارکہ میں کلمات «يُكْرِمُونَ»، «يَحُضُّونَ»، «يَأْكُلُونَ» اور «يُحِبُّونَ» کو غائب کے صیغے یعنی ”یا“ کے ساتھ تلاوت فرماتے تھے: ﴿كَلَّا بَلْ لَا يُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ وَلَا يَحُضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾ ”ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ یتیم کی عزت نہیں کرتے اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو۔“ [سورة الفجر: 17 - 18]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا القاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا عبد الله بن علي القزَّاز (1)، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا عبد الله بن المبارَك، خالد الحذَّاء، عن أبي قِلَابة، عمَّن أقرأَه النبيُّ ﷺ: (فيَومَئِذٍ لا يُعذِّبُ عذابَهُ أَحدٌ. ولا يُوثَقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ) [الفجر: 25 - 26] (2). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، والصحابي الذي لم يُسمِّه في إسناده قد سمَّاه غيرُه مالكَ بن الحُوَيرث .... (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3009 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3009 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں یہ آیات اس طرح پڑھائیں: «فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ» ”پس اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کوئی دوسرا نہ دے سکے گا، اور نہ ہی اللہ کی پکڑ جیسی سخت پکڑ کوئی اور کر سکے گا۔“ [سورة الفجر: 25 - 26]
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور وہ صحابی جن کا نام اس سند میں صراحتاً ذکر نہیں کیا گیا، دیگر محدثین نے ان کی شناخت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے نام سے کی ہے۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور وہ صحابی جن کا نام اس سند میں صراحتاً ذکر نہیں کیا گیا، دیگر محدثین نے ان کی شناخت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے نام سے کی ہے۔
حدثنا أبو العبَّاس أحمد بن هارون الفقيه، حدثنا عبد الله بن محمود، حدثنا محمود بن غَيْلان، حدثنا حُميد بن حماد أبو الجَهْم، حدثنا عائذ بن شُرَيح، سمعت أنس بن مالك يقول: كان رسول الله ﷺ وبحِيالِه جُحْر فقال: "لو جاء العُسْرُ فدخل هذا الجُحرَ، لجاء اليُسْرُ فدخل عليه فأخرَجَه، قال: فأنزل الله: ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (6)﴾ (1).
هذا حديث عجيب غير أنَّ الشيخين لم يحتجَّا بعائذ بن شُرَيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3010 - تفرد به حميد بن حماد عن عائذ وحميد منكر الحديث كعائذ
هذا حديث عجيب غير أنَّ الشيخين لم يحتجَّا بعائذ بن شُرَيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3010 - تفرد به حميد بن حماد عن عائذ وحميد منكر الحديث كعائذ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سوراخ کے سامنے تشریف فرما تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تنگی آ کر اس سوراخ میں داخل ہو جائے، تو اس کے پیچھے آسانی بھی آئے گی اور وہ اس میں داخل ہو کر تنگی کو نکال باہر کرے گی“، راوی کہتے ہیں کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ ”پس یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔“ [سورة الشرح: 5 - 6]
یہ ایک عجیب حدیث ہے، البتہ شیخین نے اس کے راوی عائذ بن شریح سے احتجاج نہیں کیا۔
یہ ایک عجیب حدیث ہے، البتہ شیخین نے اس کے راوی عائذ بن شریح سے احتجاج نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرَّازي، حدثنا محمد بن يزيد بن سِنان الرُّهَاوي، أخبرنا مَعقِل بن عبيد الله، عن عِكْرمة بن خالد، عن سعيد بن جُبْير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيِّ ابن كعب: أنَّ النبي ﷺ قال لأُبي: "إني أُقرِئُك سورةً" فقال له أُبيّ: أُمِرتَ بذلك؟ قال: "نعم"، فقرأ: ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (1) رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً﴾ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3011 - محمد ضعفه الدارقطني
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3011 - محمد ضعفه الدارقطني
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ایک سورت پڑھ کر سناؤں“، ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا اللہ نے میرا نام لے کر آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں“، پھر آپ ﷺ نے تلاوت فرمائی: ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً﴾ ”اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے کفر کرنے والے (اپنے عقیدے سے) باز آنے والے نہ تھے یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل آ جاتی، یعنی اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سنائے۔“ [سورة البينة: 1 - 2]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سعيد بن أبي أيوب، حدثنا يحيى بن أبي سليمان، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قرأ رسول الله ﷺ هذه الآية: ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ [الزلزلة: 4] قال: "أتدرون ما أخبارُها؟ " قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال: "فإنَّ أخبارَها أن تَشْهَدَ على كل عبدٍ وأَمَةٍ بما عُمِلَ على ظَهرِها، أن تقول: عَمِلَ عَمَلَ كذا يومَ كذا، فهذه أخبارُها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3012 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3012 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ ”اس دن وہ (زمین) اپنی خبریں بیان کرے گی۔“ [سورة الزلزلة: 4] پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر بندے اور ہر لونڈی (یعنی ہر مرد و عورت) کے خلاف ان تمام اعمال کی گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر کیے گئے، وہ کہے گی کہ اس شخص نے فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیا تھا، یہی اس کی خبریں ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن حاتم العِجْلُ (2) وإبراهيم ابن أبي طالب قالا: حدثنا نُوح بن حَبِيب، حدثنا عبد الملك بن عبد الرحمن الذَّمَاري، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن محمد بن المنكدِر، عن جابر بن عبد الله: أنَّ النبي ﷺ قرأ: (يَحسِبُ أنَّ مالَه أخلَدَه) [الهمزة: 3]؛ بكسر السين (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3013 - عبد الملك ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3013 - عبد الملك ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لفظ «يَحْسِبُ» کو «سين» کے زیر (کثرہ) کے ساتھ تلاوت فرمایا: ﴿يَحْسِبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ﴾ ”وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ (زندہ) رکھے گا۔“ [سورة الهمزة: 3]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدَّوري، حدثنا أبو علي الحَنَفي، حدثنا عبد الحميد بن بَهْرام، عن شَهْر بن حَوشَب، عن أسماء بنت يزيد قالت: سمعت النبي ﷺ يقرأ: (لإيلَافِ قريشٍ، إلْفِهِم (1). رِحْلةَ الشتاءِ والصَّيفِ) (2).
هذا حديث غريبٌ عالٍ في هذا الباب، والشيخان لا يَحتجَّان بشَهْر بن حَوشَب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3014 - غريب
هذا حديث غريبٌ عالٍ في هذا الباب، والشيخان لا يَحتجَّان بشَهْر بن حَوشَب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3014 - غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ﴿لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ﴾ [سورة قريش: 1-2] کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔
یہ حدیث اس باب میں غریب اور عالی سند ہے، اور شیخین (امام بخاری و مسلم) شہر بن حوشب سے استدلال نہیں کرتے۔
یہ حدیث اس باب میں غریب اور عالی سند ہے، اور شیخین (امام بخاری و مسلم) شہر بن حوشب سے استدلال نہیں کرتے۔
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو يعلى المَوصِلي، حدثنا أزهرُ بن مروان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن عمرو، عن الحسن، عن أمِّه، عن أم سَلَمة، أنَّ النبي ﷺ قرأها: (إِنَّا أَنْطَيناكَ (3) الكوثرَ) (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3015 - بل عمرو هو ابن عبيد واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3015 - بل عمرو هو ابن عبيد واه
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس (سورت) کو اس طرح پڑھا: ﴿إِنَّا أَنْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1]۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا أبو أنس محمد بن أنس، حدثنا الأعمش، عن طلحة وزُبَيد، عن سعيد بن عبد الرحمن بن أَبْزَى، عن أبيه، عن أُبيِّ بن كعب قال: كان رسول الله ﷺ يُوتِر بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، وقل للذَّين كَفَروا، واللهُ الواحد الصَّمدُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3016 - محمد رازي تفرد بأحاديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3016 - محمد رازي تفرد بأحاديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1]، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود، حدثنا شُعْبة، أخبرني عمرو بن مُرَّة، سمعت أبا البَختَريِّ، يحدِّث عن أبي سعيد الخُدْري قال: لما نَزَلت هذه السورة: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، قرأَها رسول الله ﷺ حتى خَتَمَها، ثم قال: "أنا وأصحابي حَيِّزٌ، والناسُ حَيِّزٌ، لا هِجرةَ بعد الفتح" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب القراءات [1 - الفاتحة] بعد أخبار الوجوب في قراءتها في كلِّ ركعة والجهرِ ببسم الله الرَّحمن الرَّحيم، فإني قدَّمتُ هذه الرواياتِ في كتاب الصلاة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3017 - صحيح.
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ «أَخْبَارُ الْوجُوبِ فِي قِرَاءَتِهَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَالْجَهْرِ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. إِنِّي قَدَّمْتُ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ»
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب القراءات [1 - الفاتحة] بعد أخبار الوجوب في قراءتها في كلِّ ركعة والجهرِ ببسم الله الرَّحمن الرَّحيم، فإني قدَّمتُ هذه الرواياتِ في كتاب الصلاة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3017 - صحيح.
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ «أَخْبَارُ الْوجُوبِ فِي قِرَاءَتِهَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَالْجَهْرِ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. إِنِّي قَدَّمْتُ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ»
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ سورت ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے آخر تک تلاوت فرمایا، پھر ارشاد فرمایا: ”میں اور میرے صحابہ ایک گروہ ہیں اور باقی لوگ دوسرا گروہ ہیں، فتح مکہ کے بعد اب (مکہ سے) کوئی ہجرت نہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔ کتاب القراءات کا اختتام [1- الفاتحہ]، ہر رکعت میں اس کی قرات کے وجوب اور بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنے کی خبروں کے بعد ہے، کیونکہ میں نے یہ روایات کتاب الصلاۃ میں پہلے ذکر کر دی ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔ کتاب القراءات کا اختتام [1- الفاتحہ]، ہر رکعت میں اس کی قرات کے وجوب اور بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنے کی خبروں کے بعد ہے، کیونکہ میں نے یہ روایات کتاب الصلاۃ میں پہلے ذکر کر دی ہیں۔