کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو بھی نیکی کرنے والا ہو، خواہ مسلمان ہو یا کافر، اللہ اسے اس کا بدلہ ضرور دیتا ہے
حدثنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا زيد بن أخزَمَ الطائي، حدثنا عامر بن مُدرِك الحارثي، حدثنا عُتْبة بن يَقْظان، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شِهاب، عن ابن مسعود، عن النبي ﷺ قال: "ما أحسَنَ محسنٌ من مسلم ولا كافرٍ إلّا أثابَه الله" قال: فقلنا: يا رسول الله، ما إثابةُ الله الكافرِ؟ قال: "إن كان قد وَصَلَ رَحِمًا، أو تصدَّق بصدقة، أو عَمِلَ حسنةً، أثابهُ اللهُ المالَ والولدَ والصِّحَّة وأشباهَ ذلك" قال: فقلنا: وما إثابتُه في الآخرة؟ فقال: "عذابًا دونَ العذاب" قال: وقرأ رسول الله ﷺ: ﴿أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ [غافر: 46]؛ هكذا قرأَه رسول الله ﷺ مقطوعةَ الألف (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3001 - عتبة بن يقظان واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3001 - عتبة بن يقظان واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان یا کافر نے کوئی بھی نیکی نہیں کی مگر اللہ اسے اس کا صلہ عطا فرماتا ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کافر کو اللہ کیا صلہ دیتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے صلہ رحمی کی ہو، یا صدقہ دیا ہو، یا کوئی اور نیکی کی ہو، تو اللہ اسے مال، اولاد، صحت اور اس جیسی دیگر نعمتوں کی صورت میں بدلہ دیتا ہے۔“ ہم نے عرض کیا: اور آخرت میں اس کا کیا صلہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(جہنم کے) عذاب سے کم درجے کا عذاب۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ ”آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔“ [سورة غافر: 46] رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو اسی طرح مقطوع الالف تلاوت فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتري عبد الله بن محمد ابن شاكر، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا الأجلَح بن عبد الله، عن الذَّيَّال بن حَرمَلة، عن جابر بن عبد الله قال: اجتمعت قريشٌ يومًا، فأتاه عتبةُ بن رَبيعة بن عبد شمس فقال: يا محمد، أنت خيرٌ أم عبدُ الله؟ فَسَكَتَ رسولُ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ: "أَفَرَغْتَ؟ " قال: نعم، فقال رسول الله ﷺ: ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. حم (1) تَنْزِيلٌ﴾ حتى بلغ ﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ﴾ [فصلت: 1 - 13]، فقال له عُتْبة: حَسْبُكَ حَسْبُك، ما عندَك غيرُ هذا؟ قال: "لا" فرجع عتبةُ إلى قريش فقالوا: ما وراءَك؟ فقال: ما تركتُ شيئًا أرى أنكم تكلِّمونه إلّا كلَّمتُه، قالوا: فهل أجابَك؟ قال: نعم، لا والذي نَصَبَها بَنِيَّةً ما فهمتُ شيئًا مما قال، غيرَ أنه قال: أنذرتُكم صاعقةً مثلَ صاعقة عاد وثمود، قالوا: ويلَك، يكلِّمُك رجلٌ بالعربية، ولا تدري ما قال! قال: لا والله ما فهمتُ شيئًا ممّا قال غيرَ ذِكْر الصاعقة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3002 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3002 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن قریش جمع ہوئے تو ان کے پاس عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! کیا آپ بہتر ہیں یا (آپ کے والد) عبداللہ؟ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، پھر آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم اپنی بات مکمل کر چکے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے تلاوت فرمائی: ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. حم تَنْزِيلٌ﴾ یہاں تک کہ آپ ﷺ اس مقام پر پہنچے: ﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ﴾ ”پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو آپ کہہ دیں کہ میں تمہیں کڑک (بجلی کے عذاب) سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد اور ثمود پر کڑک نازل ہوئی تھی۔“ [سورة فصلت: 1 - 13] تو عتبہ نے کہا: بس کریں بس کریں، کیا آپ کے پاس اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ عتبہ قریش کے پاس واپس گیا تو انہوں نے پوچھا: کیا خبر ہے؟ اس نے کہا: کوئی ایسی بات نہیں بچی جو میں سمجھتا تھا کہ تم اس سے کہو گے مگر میں نے وہ کہہ دی، انہوں نے پوچھا: کیا اس نے تمہیں جواب دیا؟ اس نے کہا: جی ہاں، مگر اس ذات کی قسم جس نے کعبہ کو تعمیر کیا، میں نے اس کی کہی ہوئی کسی بات کو نہیں سمجھا سوائے اس کے کہ اس نے کہا: میں تمہیں عاد اور ثمود کی کڑک جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں، انہوں نے کہا: تمہارا برا ہو، ایک آدمی تم سے عربی میں بات کر رہا ہے اور تمہیں سمجھ نہیں آئی کہ اس نے کیا کہا! اس نے کہا: نہیں اللہ کی قسم، مجھے کڑک کے ذکر کے سوا کچھ سمجھ نہیں آیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبَّاس بن الوليد بن مَزْيَد، حدثنا محمد بن شعيب، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن عاصم، عن أبي رزين، عن أبي يحيى، عن ابن عبَّاس، عن النبي ﷺ: (وإنَّه لَعَلَمٌ لِلسَّاعةِ) [الزخرف: 61] قال: "خروجُ عيسى قبل يوم القيامة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3003 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3003 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت ﴿وَإِنَّهُ لَعَلَمٌ لِلسَّاعَةِ﴾ ”اور بے شک وہ قیامت کی ایک نشانی ہے“ کے بارے میں فرمایا: ”(اس سے مراد) قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا خروج ہے۔“ [سورة الزخرف: 61]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔