المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
الدُّعَاءُ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَةِ باب: سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعا
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرَّازي، حدثنا محمد بن يزيد بن سِنان الرُّهَاوي، أخبرنا مَعقِل بن عبيد الله، عن عِكْرمة بن خالد، عن سعيد بن جُبْير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيِّ ابن كعب: أنَّ النبي ﷺ قال لأُبي: "إني أُقرِئُك سورةً" فقال له أُبيّ: أُمِرتَ بذلك؟ قال: "نعم"، فقرأ: ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (1) رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً﴾ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3011 - محمد ضعفه الدارقطنيسیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ایک سورت پڑھ کر سناؤں“، ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا اللہ نے میرا نام لے کر آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں“، پھر آپ ﷺ نے تلاوت فرمائی: ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً﴾ ”اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے کفر کرنے والے (اپنے عقیدے سے) باز آنے والے نہ تھے یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل آ جاتی، یعنی اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سنائے۔“ [سورة البينة: 1 - 2]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث ’صحیح لغیرہ‘ ہے، اور یہ سند متابعات اور شواہد میں ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن یزید بن سنان اتنے قوی نہیں ہیں، البتہ حاکم نے ان کے بارے میں اچھی رائے رکھی اور انہیں مطلقاً ثقہ قرار دیا جیسا کہ مسعود السجزی کی ان سے "سؤالات" (270) میں ہے، اور معقل بن عبید اللہ صدوق اور حسن الحدیث ہیں۔
وانظر ما سلف برقم (2925).
تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو پیچھے نمبر (2925) پر گزر چکا ہے۔
ويشهد له حديث أنس بن مالك عند البخاري (3809) ومسلم (799).
متابعات و شواہد: اور اس کی تائید (بطور شاہد) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث کرتی ہے جو بخاری (3809) اور مسلم (799) میں ہے۔