المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ باب: سورۂ فاتحہ کی تفسیر
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار العُطارِدي، حدثنا حفص بن غِيَاث عن ابن جُرَيج، عن أبيه، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي﴾ [الحجر: 87] قال: فاتحةَ الكتاب، ثم قال: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾: فقلت لأَبي: لقد أخبرك سعيدٌ أنَّ ابن عبَّاس قال: بسم الله الرَّحمن الرَّحيم آية؟ قال: نعم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وتمامُ هذا الباب في كتاب الصلاة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3018 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے ارشاد ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي﴾ [سورة الحجر: 87] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد فاتحۃ الکتاب (سورہ فاتحہ) ہے، پھر انہوں نے ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ پڑھی۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے اپنے والد سے پوچھا: کیا سعید بن جبیر نے آپ کو خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم (سورہ فاتحہ کی مستقل) ایک آیت ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس باب کی تفصیل کتاب الصلاۃ میں موجود ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے ابن جریج کے والد کے ضعف کی وجہ سے۔
فنی نکتہ / علّت: وہ عبدالعزیز بن جریج ہیں، اور ان کے بیٹے کا نام عبدالملک ہے۔
وهذا الخبر مكرر ما سلف برقم (2047).
تفصیلِ روایت: یہ خبر (حدیث) مکرر ہے جو پیچھے نمبر (2047) پر گزر چکی ہے۔