حدیث نمبر: 3030
حدثنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي قالا: حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، أخبرني الزُّهْري، عن أبي سَلَمة، عن جابر قال: سمعت رسول الله ﷺ وهو يحدِّث عن فَتْرة الوحي، قال: "فقلت: زَمِّلوني، فدَثَّروني، فأنزل الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَأَنْذِرْ (2) وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾، قال: هي الأوثان (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه اللفظة (3).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وحی کے تعطل کے زمانے کے بارے میں تذکرہ فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے (گھر والوں سے) کہا: مجھے کپڑا اڑھا دو، مجھے کپڑا اڑھا دو، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے مراد بت ہیں۔ [سورة المدثر: 1-5]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3030
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 3030] [ترقيم الشركة 3011]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه بأطول مما هنا أحمد 23/ (15035)، والبخاري (4925) من طريق عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 23/ (15035) اور بخاری نے (4925) میں عبدالرزاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ یہاں موجود متن سے زیادہ طویل (تفصیلی) روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 22/ (14483)، والبخاري (3238) و (4926)، ومسلم (161) (256) من طريق عُقيل بن خالد، ومسلم (161) (255) من طريق يونس بن يزيد، والنسائي (11567) من طريق الليث بن سعد، ثلاثتهم عن ابن شهاب الزهري، به وصرَّح عقيل في روايته أنَّ الذي فسَّر الرّجز بالاوثان هو أبو سلمة، وكذا الليث إلّا أنَّ الغالب في رواية الليث هذه عند النَّسَائِي أنها عن عُقيل نفسه كما عند غيره.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 22/ (14483)، بخاری نے (3238) اور (4926)، اور مسلم نے (161) (256) میں عقیل بن خالد کے طریق سے؛ اور مسلم نے (161) (255) میں یونس بن یزید کے طریق سے؛ اور نسائی نے (11567) میں لیث بن سعد کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ تینوں (عقیل، یونس، لیث) ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: عقیل نے اپنی روایت میں تصریح کی ہے کہ جس نے "الرجز" کی تفسیر بتوں سے کی ہے وہ ابو سلمہ ہیں۔ اسی طرح لیث نے بھی، مگر نسائی کے ہاں لیث کی اس روایت میں غالب گمان یہی ہے کہ وہ خود عقیل سے روایت کر رہے ہیں جیسا کہ دوسروں کے ہاں ہے۔
(3) بل أخرجاه بها لكن من حديث عقيل عن الزهري كما سبق، فاستدراكه عليهما ذهول من المصنف.
اہم نکتہ: بلکہ شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے روایت کیا ہے لیکن عقیل عن الزہری کی حدیث سے جیسا کہ گزرا، لہذا مصنف کا ان پر استدراک کرنا (یہ کہنا کہ انہوں نے روایت نہیں کیا) مصنف کی بھول ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3030 سے ماخوذ ہے۔