المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ ( يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ) باب: سورۂ مدثر کے نزول کا واقعہ
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا هارون بن المغيرة، حدثنا عَنبَسة، عن حَبيب بن أبي عَمْرة، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس أنه قال: هل تدرون ما سَعَةُ جهنَّم؟ قال: قلت: لا أدري، قال: أجل والله ما تدري إنَّ بين سَعَةِ شَحْمةِ أُذُنهم وعاتِقِه مَسِيرةَ سبعين خَريفًا، تجري فيها أوديةُ القَيْح والدم، فقلت: أنهارًا؟ قال: لا، بل أوديةً. ثم قال ابن عبَّاس: حدَّثتني عائشةُ أم المؤمنين: أنها سألت رسولَ الله ﷺ عن هذه الآية: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ [الزمر: 67]، قال: "يقول: أنا الجبَّارُ، أنا أنا، ومَجَّدَ الربُّ نفسَه"، قال: فرَجَفَ برسول الله ﷺ مِنبرُه حتى قلنا: لَيَخِرَّنَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2999 - صحيح .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نہیں جانتے کہ (جہنمیوں کے) کان کی لو اور ان کے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، جس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہتی ہوں گی، میں نے پوچھا: کیا وہ نہریں ہوں گی؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ وادیاں ہوں گی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ [سورة الزمر: 67]، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا أَنَا» ”میں جبار ہوں، میں ہی (سب کچھ) ہوں، میں ہی (سب کچھ) ہوں“ اور رب تعالیٰ نے اپنی عظمت و بڑائی بیان فرمائی۔“ راوی کہتے ہیں کہ (یہ فرماتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ کا منبر اس قدر لرزنے لگا کہ ہم نے (خوف سے) سوچا کہ کہیں آپ ﷺ گر نہ جائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں راوی عنبسہ سے مراد ’عنبسہ بن سعید الاسدی‘ ہیں۔
وسيأتي الحديث برقم (3672) من طريق ابن المبارك عن عنبسة إلَّا أنه ذكر في قصة عائشة سؤالًا وجوابًا آخر.
تفصیلِ روایت: یہ حدیث آگے نمبر (3672) پر ابنِ مبارک کے طریق سے عنبسہ سے ہی آئے گی، سوائے اس کے کہ وہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قصے میں ایک الگ سوال اور جواب کا ذکر ہے۔
ويشهد لشطره الثاني هنا حديث ابن عمر عند مسلم (2788) (25)، وأبي طاهر المخلِّص في "المخلصيات" (126).
متابعات و شواہد: اس حدیث کے دوسرے حصے کی تائید (بطور شاہد) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث کرتی ہے جو صحیح مسلم: (2788) (25) میں موجود ہے، اور ابو طاہر المخلص کی کتاب "المخلصیات" (126) میں موجود ہے۔