المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ ( يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ) باب: سورۂ مدثر کے نزول کا واقعہ
حدیث نمبر: 3035
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق ابن أحمد بن مِهران حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أم سَلَمة قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقرأ: (بَلَى قد جاءَتْكِ آياتي فكذَّبتِ بها واستَكبَرتِ وكنتِ من الكافرينَ) [الزمر:59] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح (مونث کے صیغے کے ساتھ) تلاوت کرتے ہوئے سنا: ﴿بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ﴾ ”ہاں! کیوں نہیں، تیرے پاس میری آیات آئی تھیں، مگر تو نے انہیں جھٹلایا، تکبر کیا اور تو کافروں میں سے ہو گئی۔“ [سورة الزمر: 59]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف. وهو مكرر (2968).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ روایت نمبر (2968) پر گزر چکی ہے (یعنی مکرر ہے)۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ روایت نمبر (2968) پر گزر چکی ہے (یعنی مکرر ہے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3035 سے ماخوذ ہے۔