کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
أخبرني عبد الله بن محمد بن حَمُّويه، حدثني أبي، حدثنا أحمد بن حفص بن عبد الله، حدثني أبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عمرو بن شعيب، عن عبد الله بن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: نهى رسول الله ﷺ يومَ خيبر عن بيع المَغانم حتَّى تُقسَم، وعن الحَبَالى أن يُوطأنَ حتى يَضعْن ما في بُطونهن، وقال: "أتسقي زَرْعَ غيرِك؟ "، وعن أكلِ لحوم الحُمُر الإنسيّة، وعن لحم كل ذي نابٍ من السِّباع (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2611 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2611 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اسے بیچنے سے منع فرمایا، اور حاملہ قیدی عورتوں سے اس وقت تک جماع کرنے سے منع فرمایا جب تک وہ اپنا حمل وضع نہ کر دیں، اور آپ ﷺ نے (بطور تنبیہ) فرمایا: ”کیا تم دوسرے کی کھیتی کو سیراب کرتے ہو؟“، نیز آپ ﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے اور ہر کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك، أخبرنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، حدثني عبد الرحمن بن الحارث، عن ابن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: نهى رسول الله ﷺ يومَ خيبر عن بيع المَغانم حتى تُقسَم (2). وقد روي بعض هذا المتن بإسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2612 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2612 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اسے بیچنے سے منع فرمایا۔
اس متن کا کچھ حصہ شیخین کی شرط پر صحیح اسناد کے ساتھ بھی مروی ہے۔
اس متن کا کچھ حصہ شیخین کی شرط پر صحیح اسناد کے ساتھ بھی مروی ہے۔
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيبان، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: نهى رسولُ الله ﷺ يومَ خيبر عن لحوم الحُمُر الأهليّة، وعن النساء الحَبَالى أن يُوطأنَ حتى يَضعْن ما في بُطونهن، وعن كُلّ ذي نابٍ من السِّباع، وعن بيع الخُمُس حتى يُقسَم (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2613 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2613 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے، حاملہ عورتوں سے وضعِ حمل سے پہلے جماع کرنے سے، ہر کچلی والے درندے سے اور خمس (مالِ غنیمت کے پانچویں حصے) کی تقسیم سے پہلے اس کی بیع سے منع فرمایا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني، حدثنا ابن أبي غَرَزة، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبعي بن حِراش، عن علي، قال: لمَّا افتَتَح رسولُ الله ﷺ مكة، أتاهُ ناسٌ من قريش فقالوا: يا محمد، إنا حُلفاؤُك وقومُك، وإنه لَحِقَ بك أرِقّاؤُنا ليس لهم رغبةٌ في الإسلام، وإنهم فَرُّوا من العَمَل فاردُدْهم علينا، فشاوَرَ أبا بكر في أمرهم، فقال: صدَقوا يا رسول الله، وقال لعُمر: "ما تَرى؟ " فقال مثلَ قول أبي بكر، فقال رسول الله ﷺ: "يا معشرَ قُريش، لَيَبعثَنَّ الله عليكم رجلًا منكم امتَحَنَ اللهُ قلبَه للإيمان، يضربُ رقابَكم على الدِّين"، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول الله؟ قال: "لا" قال عمر: أنا هو يا رسول الله؟ قال: "لا، ولكن خاصِفُ النَّعْل في المسجد"، وقد كان ألقَى نعلَه إلى عليٍّ يَخصِفُها. ثم قال: أما إني سمعتُه يقول: "لا تَكذِبُوا عليَّ، فإنه مَن يَكذِبْ عليَّ يَلِجِ النارَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2614 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2614 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو قریش کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے محمد! ہم آپ کے حلیف اور آپ کی قوم ہیں، اور یہ کہ ہمارے کچھ غلام بھاگ کر آپ کے پاس آ ملے ہیں جنہیں اسلام کی کوئی تڑپ نہیں بلکہ وہ کام سے جان چھڑا کر بھاگے ہیں، لہٰذا آپ انہیں ہمیں واپس کر دیں، آپ ﷺ نے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ سچ کہہ رہے ہیں، پھر آپ ﷺ نے عمر (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: ”تمہاری کیا رائے ہے؟“ تو انہوں نے بھی ابوبکر (رضی اللہ عنہ) جیسی بات کہی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ قریش! اللہ تم پر ضرور ایسا شخص بھیجے گا جس کا دل اللہ نے ایمان کے لیے پرکھ لیا ہے، وہ دین کی خاطر تمہاری گردنیں مارے گا۔“ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ عمر (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: کیا وہ میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ وہ وہ شخص ہے جو مسجد میں جوتی ٹانک رہا ہے“، اور آپ ﷺ نے اپنی جوتی مرمت کے لیے سیدنا علی (رضی اللہ عنہ) کو دی ہوئی تھی۔ پھر علی (رضی اللہ عنہ) نے کہا: آگاہ رہو! میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”مجھ پر جھوٹ نہ بولو، کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے وہ آگ میں داخل ہوتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، قال: قال لي يحيى بن أيوب: حدثني إبراهيم بن سعد، عن كثير مولى بني مَخزُوم، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ قَسَمَ لمئتَي فرسٍ يومَ خيبر سهمَين سهمَين (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وقد احتجَّ البخاري بيحيى بن أيوب وكثير بن كثير المخزومي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2615 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وقد احتجَّ البخاري بيحيى بن أيوب وكثير بن كثير المخزومي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2615 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن دو سو گھوڑوں کے لیے دو دو حصے تقسیم فرمائے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور امام بخاری نے یحییٰ بن ایوب اور کثیر بن کثیر مخزومی سے استدلال کیا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور امام بخاری نے یحییٰ بن ایوب اور کثیر بن کثیر مخزومی سے استدلال کیا ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، قال: سمعت عبد الله بن مَلَاذٍ يحدّث عن نُمير بن أوس، عن مالك بن مَسرُوح، عن عامر بن أبي عامر الأشعري، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "نِعمَ الحيُّ الأَسْدُ والأشعرِيّون، لا يَفِرُّون في القتال، ولا يُخِلّون، هم مني وأنا منهم". قال: فحدّثتُ به معاوية، فقال: ليس هكذا، إنما قال رسول الله ﷺ: "هم مني وإليّ"، فقلتُ: ليس هكذا حدثني أبي، ولكن حدثني أنه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "هم مني وأنا منهم"، قال: فأنت إذًا أعلمُ بحديثِ أبيك (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2616 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2616 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عامر بن ابی عامر اشعری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قبیلہ ازد اور اشعری بہترین لوگ ہیں، وہ میدانِ جنگ سے فرار نہیں ہوتے اور نہ ہی خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ بات معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو بتائی تو انہوں نے کہا: ایسا نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف (رجوع کرنے والے) ہیں“، تو میں نے کہا: میرے والد نے مجھے ایسے نہیں بتایا بلکہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خود فرماتے سنا: ”وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“ معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے کہا: پھر تم اپنے والد کی حدیث کو زیادہ بہتر جانتے ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا عبد الله بن شَوذَب، عن عامر بن عبد الواحد، عن عبد الله بن بُريدة الأسلمي، عن عبد الله بن عَمرو، قال: كان النبي ﷺ إذا أصابَ غنيمةً أمر بلالًا فنادى ثلاثًا، فيرفعُ الناسُ ما أصابُوا، ثم يأمُر به فيُخمَّس، فأتاهُ رجلٌ بزِمَامٍ من شَعر، وقد قُسمتِ الغَنيمةُ، فقال له: "هل سمعتَ بلالًا ينادي ثلاثًا؟ " قال: نعم، قال: "فما مَنَعَك أن تأتيَ به؟ " فاعتَذَر إليه، فقال له: "كن أنت الذي تُوافي به يومَ القيامة، فإني لن أقبلَه منك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2617 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2617 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب غنیمت حاصل ہوتی تو آپ بلال (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیتے اور وہ تین مرتبہ پکارتے، پھر لوگ اپنا حاصل کردہ مال لے آتے اور آپ ﷺ اس کا خمس نکالنے کا حکم دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص بالوں کی بنی ہوئی ایک رسی لے کر آیا جبکہ غنیمت تقسیم ہو چکی تھی، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم نے بلال کو تین مرتبہ پکارتے ہوئے سنا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تمہیں یہ لانے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے عذر پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تم ہی اس (خیانت) کو لے کر آنا، میں اب یہ تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الخراساني ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا الهيثم بن جَميل، حدثنا مُبارك بن فَضَالة، عن عُبيد الله (2) بن عمر، عن سعيد المقبُري، قال: سمعت أبا هريرة، وكنت جالسًا عنده، فقال أبو هريرة: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ نبيًّا من الأنبياء قاتَلَ أهلَ مدينةٍ، حتى إذا كاد أن يَفتَتحَها خشيَ أن تَغرُبَ الشمسُ، فقال لها: أيّتها الشمسُ، إنك مأمُورةٌ وأنا مأمُورٌ، بحُرْمتي عليكِ إلّا رَكَدْتِ ساعةً من النهار. قال: فحَبَسها الله حتى افتتح المدينة. وكانوا إذا أصابُوا الغنائمَ قَرَّبوها في القُربان، فجاءتِ النارُ فأكلتْها، فلما أصابوا وَضَعُوا القُربان، فلم تجيءِ النارُ تأكلُه، فقالوا: يا نبيَّ الله، ما لنا لا يُقبلُ قُربانُنا؟ قال: فيكم غُلول، قالوا: وكيف لنا أن نعلمَ مَن عنده الغُلُول؟ قال: وهم اثنا عشر سِبْطًا، قال: يُبايِعُني رأسُ كل سِبْطٍ منكم، فبايَعَه رأسُ كلِّ سِبْطٍ" قال: "فَلَزِقَت كفُّ النبي بكفِّ رجل منهم، فقال له: عندك الغُلول، فقال: كيف لي أن أعلمَ عند أي سِبْطٍ هو؟ قال: تدعو سِبْطك فتبايعُهم رجلًا رجلًا، قال: ففعل، فلزِقَتْ كفُّه بكفِّ رجلٍ منهم، قال: عندك الغُلول؟ قال: نعم، عندي الغُلول، قال: وما هو؟ قال: رأسُ ثورٍ من ذهب أعجبَني، فغلَلْتُه، فجاء به فوضعه في الغنائم، فجاءتِ النارُ فأكلتْه". فقال كعب: صدق اللهُ ورسولُه، هكذا واللهِ في كتاب الله - يعني في التوراة - قال: يا أبا هريرة، أحدَّثكُم النبي ﷺ أيَّ نبي كان؟ قال: لا، قال كعب: هو يُوشَع بن نُون، قال: فحدَّثكُم أيُّ قرية هي؟ [قال: لا] (1) قال: هي مدينة أَريحا (2).
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2618 - صحيح غريب
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2618 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی نے ایک بستی والوں سے جہاد کیا، یہاں تک کہ جب وہ اسے فتح کرنے کے قریب پہنچے تو انہیں خدشہ ہوا کہ سورج غروب ہو جائے گا، چنانچہ انہوں نے سورج سے کہا: اے سورج! تو بھی (اللہ کے حکم کا) پابند ہے اور میں بھی پابند ہوں، تجھے میری حرمت کا واسطہ! دن کی ایک گھڑی کے لیے رک جا۔ راوی کہتے ہیں: پس اللہ نے اسے روک دیا یہاں تک کہ انہوں نے وہ بستی فتح کر لی۔ اور (پہلی امتوں میں) قاعدہ یہ تھا کہ جب انہیں غنیمت حاصل ہوتی تو وہ اسے قربانی کے لیے پیش کرتے، پھر (آسمان سے) آگ آتی اور اسے کھا (کر قبول کر) لیتی، لیکن اس بار جب انہوں نے غنیمت کا مال رکھا تو آگ اسے کھانے نہ آئی، اس پر انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا بات ہے کہ ہماری قربانی قبول نہیں ہوئی؟ انہوں نے فرمایا: تم میں خیانت (مالِ غنیمت کی چوری) ہوئی ہے، انہوں نے پوچھا: ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ خیانت کس کے پاس ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم بارہ قبائل ہو، ہر قبیلے کا سردار مجھ سے بیعت کرے۔ پس ہر قبیلے کے سردار نے ان سے بیعت کی، تو اس نبی کا ہاتھ ان میں سے ایک شخص کے ہاتھ سے چمٹ گیا، انہوں نے فرمایا: تمہارے قبیلے کے ہاں خیانت ہوئی ہے، اس نے پوچھا: مجھے کیسے معلوم ہو کہ وہ کس شخص کے پاس ہے؟ فرمایا: اپنے قبیلے کو بلاؤ اور ایک ایک کر کے ان سے بیعت لو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو ان کا ہاتھ ایک شخص کے ہاتھ سے چمٹ گیا، انہوں نے پوچھا: کیا تمہارے پاس خیانت کا مال ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میرے پاس ہے، پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: سونے سے بنا بیل کا ایک سر ہے جو مجھے پسند آ گیا تھا تو میں نے اسے چھپا لیا تھا، چنانچہ وہ اسے لے آیا اور غنیمت میں رکھ دیا، پھر آگ آئی اور اسے کھا گئی۔“ اس پر کعب احبار نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، اللہ کی قسم! اللہ کی کتاب یعنی تورات میں ایسے ہی ہے، انہوں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کیا نبی ﷺ نے آپ کو بتایا تھا کہ وہ کون سے نبی تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، کعب نے کہا: وہ یوشع بن نون علیہ السلام تھے، پھر انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو بتایا تھا کہ وہ کون سی بستی تھی؟ (انہوں نے کہا: نہیں) کعب نے کہا: وہ اریحا شہر تھا۔
یہ حدیث غریب اور صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث غریب اور صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن عَرْعَرة السامي، حدثنا أزهر (1) بن سعْد السَّمّان، حدثنا ابن عَون، عن محمد، عن (2) عُبيدة، عن علي، قال: قال النبي ﷺ في الأُسارى يوم بدرٍ: "إن شئتم قَتلْتُموهم، وإن شئتم فاديتُم، واستمتعتُم بالفِداء، واستُشهِد منكم بعِدَّتهم"، فكان آخرَ السبعين ثابتُ بنُ قيس، استُشهِد باليَمامة (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2619 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2619 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جنگِ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر تم چاہو تو انہیں قتل کر دو، اور اگر چاہو تو ان سے فدیہ لے لو اور اس فدیہ سے فائدہ اٹھاؤ، لیکن (اس صورت میں) تم میں سے اتنے ہی لوگ شہید ہوں گے جتنی ان کی تعداد (ستر) ہے۔“ چنانچہ ان میں سے سب سے آخر میں شہید ہونے والے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تھے جو جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن سعد الحافظ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي وأحمد بن المِقْدام، قالا: حدثنا أبو بحر البَكْراوي، حدثنا شعبة، حدثنا أبو العَنْبس، عن أبي الشَّعْثاء، عن ابن عباس، قال: جعلَ رسولُ الله ﷺ في فِداء الأُسارى أهلِ الجاهلية أربعَ مئة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2620 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2620 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دورِ جاہلیت کے طریقے کے مطابق قیدیوں کا فدیہ چار سو (درہم) مقرر فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتّاب العَبْدي، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا داود بن أبي هند. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا محمد بن المسيّب، حدثنا إسحاق بن شاهين، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: كان ناسٌ من الأُسارى يوم بدر ليس لهم فِداءٌ، فجعلَ رسول الله ﷺ فِداءَهم أن يُعلِّموا أولادَ الأنصار الكتابةَ، قال: فجاء غلامٌ من أولاد الأنصار إلى أبيه، فقال: ما شأنُك؟ قال: ضربني مُعلِّمي، قال: الخبيثُ يَطلبُ بِذَحْلِ بدرٍ، والله لا تأتيه أبدًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2621 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2621 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جنگِ بدر کے کچھ قیدی ایسے تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لیے کچھ نہ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا فدیہ یہ مقرر فرمایا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں، راوی کہتے ہیں: ایک مرتبہ انصار کا ایک بچہ اپنے والد کے پاس آیا تو اس نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرے معلم نے مجھے مارا ہے، تو اس کے والد نے (غصے میں) کہا: یہ خبیث شخص جنگِ بدر کا بدلہ لینا چاہتا ہے، اللہ کی قسم! تم اب کبھی اس کے پاس نہیں جاؤ گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأسدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، حدثنا صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كان رسول الله ﷺ إذا جاءه فَيءٌ قَسَمه من يومِه، فأعطى الآهِلَ حَظَّين والعَزَبَ حظًّا (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد أخرج بهذا الإسناد بعَينِه أربعةَ أحاديث، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2622 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد أخرج بهذا الإسناد بعَينِه أربعةَ أحاديث، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2622 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب بھی مالِ فئی آتا تو آپ ﷺ اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے، آپ ﷺ شادی شدہ شخص کو دو حصے اور غیر شادی شدہ کو ایک حصہ عطا فرماتے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے اسی سند کے ساتھ چار احادیث روایت کی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے اسی سند کے ساتھ چار احادیث روایت کی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔