کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ایک بکریاں چرانے والے کے اسلام لانے، شہید ہونے اور اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کرنے کا واقعہ
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، أخبرني حَيْوة بن شُرَيح، عن ابن الهادِ، عن شُرَحْبيل بن سعد، عن جابر بن عبد الله، قال: كنا مع رسول الله ﷺ في غزوة خيبر، خَرَجت سريّةٌ فأخذوا إنسانًا معه غنمٌ يرعاها، فجاؤوا به إلى رسول الله ﷺ، فكلَّمه النبيُّ ﷺ ما شاء الله أن يُكَلِّمه، فقال له الرجلُ: إني قد آمنتُ بك وبما جئتَ به، فكيف بالغَنَم يا رسول الله، فإنها أمانةٌ، وهي للناس، الشاةُ والشاتان وأكثرُ من ذلك؟ قال: "احصِبْ وجوهَها تَرجِعْ إلى أهلِها" فأخذَ قَبْضةً من حَصْباء - أو تراب - فرمى به وجُوهَها، فخرجت تَشْتَدُّ حتى دخلتْ كلُّ شاةٍ إلى أهلها، ثم تقدّم إلى الصفّ، فأصابه سهمٌ فقتَلَه ولم يصلِّ لله سجدةً قطُّ، قال رسولُ الله ﷺ: "أدخِلُوه الخِباءَ" فأُدخل خِباءَ رسولِ الله ﷺ، حتى إذا فرغَ رسولُ الله ﷺ دَخَلَ عليه ثم خرج، فقال: "لقد حَسُنَ إسلامُ صاحبِكم، لقد دخلتُ عليه وإن عندَه لَزوجتَين له من الحُورِ العِينِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2609 - بل كان شرحبيل متهما قاله ابن أبي ذؤيب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں تھے، ایک فوجی دستہ نکلا اور وہ ایک ایسے شخص کو پکڑ لائے جس کے پاس کچھ بکریاں تھیں جنہیں وہ چرا رہا تھا، وہ اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے تو نبی کریم ﷺ نے اس سے طویل گفتگو فرمائی، اس شخص نے عرض کیا: میں آپ پر اور اس پیغام پر جو آپ لائے ہیں ایمان لاتا ہوں، لیکن اے اللہ کے رسول! ان بکریوں کا کیا بنے گا کیونکہ یہ امانت ہیں اور لوگوں کی ملکیت ہیں، خواہ ایک دو ہوں یا اس سے زیادہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے چہروں پر کنکریاں مارو، یہ خود ہی اپنے مالکوں کے پاس واپس چلی جائیں گی۔“ چنانچہ اس نے مٹھی بھر کنکریاں —یا مٹی— لی اور ان کے چہروں پر ماری تو وہ دوڑتی ہوئی نکل گئیں یہاں تک کہ ہر بکری اپنے مالک کے گھر داخل ہو گئی۔ پھر وہ شخص جنگی صف میں آگے بڑھا تو اسے ایک تیر لگا جس نے اسے شہید کر دیا حالانکہ اس نے اللہ کے لیے کبھی ایک سجدہ بھی نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے خیمے میں لے جاؤ۔“ پس اسے رسول اللہ ﷺ کے خیمے میں رکھ دیا گیا، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ (کام سے) فارغ ہوئے تو اس کے پاس تشریف لے گئے، پھر باہر نکل کر فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام بہت عمدہ رہا، میں جب اس کے پاس گیا تو اس کے پاس حورِ عین میں سے اس کی دو بیویاں موجود تھیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2642
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل شرحبيل بن سعد، وقد روي ما يشهد لخبره هذا، وقال الذهبي عن حديثه هذا في "تاريخ الإسلام" 1/ 281: حديث حسن أو صحيح. قلنا: وهذا أحسن من قوله في "تلخيص المستدرك" بأنَّ شرحبيل كان متهمًا، استنادًا إلى قول ابن أبي ذئب فيه، وأخرجه البيهقي ...» [ترقيم الرساله 2642] [ترقيم الشركة 2625] [ترقيم العلميه 2609]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن أبي ذِئب، عن القاسم بن عباس، عن عبد الله بن نِيَار، عن عُرْوة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أُتيَ بظَبْيةٍ فيها خَرَزٌ من الغنيمة، فقسمها بين الحُرّةِ والأمَة سواءً (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2610 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں غنیمت کے مال میں سے چمڑے کا ایک ٹکڑا لایا گیا جس میں منکے تھے، تو آپ ﷺ نے اسے آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے درمیان برابر تقسیم فرما دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2643
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.» [ترقيم الرساله 2643] [ترقيم الشركة 2626] [ترقيم العلميه 2610]