المستدرك على الصحيحين
كتاب قسم الفيء— قرآن پاک سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم ثابت ہے
النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنِ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ باب: غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا عبد الله بن شَوذَب، عن عامر بن عبد الواحد، عن عبد الله بن بُريدة الأسلمي، عن عبد الله بن عَمرو، قال: كان النبي ﷺ إذا أصابَ غنيمةً أمر بلالًا فنادى ثلاثًا، فيرفعُ الناسُ ما أصابُوا، ثم يأمُر به فيُخمَّس، فأتاهُ رجلٌ بزِمَامٍ من شَعر، وقد قُسمتِ الغَنيمةُ، فقال له: "هل سمعتَ بلالًا ينادي ثلاثًا؟ " قال: نعم، قال: "فما مَنَعَك أن تأتيَ به؟ " فاعتَذَر إليه، فقال له: "كن أنت الذي تُوافي به يومَ القيامة، فإني لن أقبلَه منك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2617 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب غنیمت حاصل ہوتی تو آپ بلال (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیتے اور وہ تین مرتبہ پکارتے، پھر لوگ اپنا حاصل کردہ مال لے آتے اور آپ ﷺ اس کا خمس نکالنے کا حکم دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص بالوں کی بنی ہوئی ایک رسی لے کر آیا جبکہ غنیمت تقسیم ہو چکی تھی، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم نے بلال کو تین مرتبہ پکارتے ہوئے سنا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تمہیں یہ لانے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے عذر پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تم ہی اس (خیانت) کو لے کر آنا، میں اب یہ تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ سند ایوب بن سوید کے ضعف کی وجہ سے کمزور ہے، لیکن وہ اس میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ رقم (2615) پر ان کی تائید موجود ہے، اور عامر بن عبد الواحد "صدوق" (سچے) ہیں جن کی حدیث حسن ہوتی ہے۔