حدیث نمبر: 2650
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا عبد الله بن شَوذَب، عن عامر بن عبد الواحد، عن عبد الله بن بُريدة الأسلمي، عن عبد الله بن عَمرو، قال: كان النبي ﷺ إذا أصابَ غنيمةً أمر بلالًا فنادى ثلاثًا، فيرفعُ الناسُ ما أصابُوا، ثم يأمُر به فيُخمَّس، فأتاهُ رجلٌ بزِمَامٍ من شَعر، وقد قُسمتِ الغَنيمةُ، فقال له: "هل سمعتَ بلالًا ينادي ثلاثًا؟ " قال: نعم، قال: "فما مَنَعَك أن تأتيَ به؟ " فاعتَذَر إليه، فقال له: "كن أنت الذي تُوافي به يومَ القيامة، فإني لن أقبلَه منك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2617 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب غنیمت حاصل ہوتی تو آپ بلال (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیتے اور وہ تین مرتبہ پکارتے، پھر لوگ اپنا حاصل کردہ مال لے آتے اور آپ ﷺ اس کا خمس نکالنے کا حکم دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص بالوں کی بنی ہوئی ایک رسی لے کر آیا جبکہ غنیمت تقسیم ہو چکی تھی، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم نے بلال کو تین مرتبہ پکارتے ہوئے سنا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تمہیں یہ لانے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے عذر پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تم ہی اس (خیانت) کو لے کر آنا، میں اب یہ تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2650
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن سُويد، لكنه لم ينفرد به، فقد توبع فيما تقدَّم برقم (2615)، وعامر بن عبد الواحد صدوق حسن الحديث.» [ترقيم الرساله 2650] [ترقيم الشركة 2633] [ترقيم العلميه 2617]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن سُويد، لكنه لم ينفرد به، فقد توبع فيما تقدَّم برقم (2615)، وعامر بن عبد الواحد صدوق حسن الحديث.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ سند ایوب بن سوید کے ضعف کی وجہ سے کمزور ہے، لیکن وہ اس میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ رقم (2615) پر ان کی تائید موجود ہے، اور عامر بن عبد الواحد "صدوق" (سچے) ہیں جن کی حدیث حسن ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2650 سے ماخوذ ہے۔