المستدرك على الصحيحين
كتاب قسم الفيء— قرآن پاک سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم ثابت ہے
النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنِ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ باب: غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2646
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيبان، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: نهى رسولُ الله ﷺ يومَ خيبر عن لحوم الحُمُر الأهليّة، وعن النساء الحَبَالى أن يُوطأنَ حتى يَضعْن ما في بُطونهن، وعن كُلّ ذي نابٍ من السِّباع، وعن بيع الخُمُس حتى يُقسَم (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2613 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے، حاملہ عورتوں سے وضعِ حمل سے پہلے جماع کرنے سے، ہر کچلی والے درندے سے اور خمس (مالِ غنیمت کے پانچویں حصے) کی تقسیم سے پہلے اس کی بیع سے منع فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وقد تقدَّم من هذا الطريق نفسه برقم (2303)، لكن بلفظ: نهى رسول الله ﷺ عن كل ذي نابٍ من السِّباع، وعن قتل الوِلْدان، وعن شراء المغنم حتى يُقسَم.
حوالہ / مصدر: یہ روایت اسی طریق سے رقم (2303) پر گزر چکی ہے، لیکن وہاں الفاظ یہ ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلی والے درندے، بچوں کے قتل اور مالِ غنیمت کو تقسیم سے پہلے خریدنے سے منع فرمایا"۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وقد تقدَّم من هذا الطريق نفسه برقم (2303)، لكن بلفظ: نهى رسول الله ﷺ عن كل ذي نابٍ من السِّباع، وعن قتل الوِلْدان، وعن شراء المغنم حتى يُقسَم.
حوالہ / مصدر: یہ روایت اسی طریق سے رقم (2303) پر گزر چکی ہے، لیکن وہاں الفاظ یہ ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلی والے درندے، بچوں کے قتل اور مالِ غنیمت کو تقسیم سے پہلے خریدنے سے منع فرمایا"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2646 سے ماخوذ ہے۔