المستدرك على الصحيحين
كتاب قسم الفيء— قرآن پاک سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم ثابت ہے
النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنِ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ باب: غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2644
أخبرني عبد الله بن محمد بن حَمُّويه، حدثني أبي، حدثنا أحمد بن حفص بن عبد الله، حدثني أبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عمرو بن شعيب، عن عبد الله بن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: نهى رسول الله ﷺ يومَ خيبر عن بيع المَغانم حتَّى تُقسَم، وعن الحَبَالى أن يُوطأنَ حتى يَضعْن ما في بُطونهن، وقال: "أتسقي زَرْعَ غيرِك؟ "، وعن أكلِ لحوم الحُمُر الإنسيّة، وعن لحم كل ذي نابٍ من السِّباع (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2611 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اسے بیچنے سے منع فرمایا، اور حاملہ قیدی عورتوں سے اس وقت تک جماع کرنے سے منع فرمایا جب تک وہ اپنا حمل وضع نہ کر دیں، اور آپ ﷺ نے (بطور تنبیہ) فرمایا: ”کیا تم دوسرے کی کھیتی کو سیراب کرتے ہو؟“، نیز آپ ﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے اور ہر کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناد صحيح، وهو مكرر الحديث السالف برقم (2367).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اور یہ سابقہ حدیث رقم (2367) کا مکرر (اعادہ) ہے۔
وانظر تالييه.
نوٹ / توضیح: اس کے بعد آنے والی دو روایات بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اور یہ سابقہ حدیث رقم (2367) کا مکرر (اعادہ) ہے۔
وانظر تالييه.
نوٹ / توضیح: اس کے بعد آنے والی دو روایات بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2644 سے ماخوذ ہے۔