المستدرك على الصحيحين
كتاب قسم الفيء— قرآن پاک سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم ثابت ہے
النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنِ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ باب: غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2645
أخبرَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك، أخبرنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، حدثني عبد الرحمن بن الحارث، عن ابن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: نهى رسول الله ﷺ يومَ خيبر عن بيع المَغانم حتى تُقسَم (2). وقد روي بعض هذا المتن بإسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2612 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اسے بیچنے سے منع فرمایا۔
اس متن کا کچھ حصہ شیخین کی شرط پر صحیح اسناد کے ساتھ بھی مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات، وهو مكرر الحديث السالف برقم (2304) غير أنَّ شيخ المصنف هناك علي بن حَمْشاذَ العدل.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور متابعات میں اس کی سند حسن ہے۔ یہ رقم (2304) پر گزرنے والی حدیث کا مکرر ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں مصنف کے شیخ "علی بن حمشاد العدل" ہیں۔
وانظر ما قبله وما بعده.
نوٹ / توضیح: اس سے ماقبل اور مابعد کی روایات ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور متابعات میں اس کی سند حسن ہے۔ یہ رقم (2304) پر گزرنے والی حدیث کا مکرر ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں مصنف کے شیخ "علی بن حمشاد العدل" ہیں۔
وانظر ما قبله وما بعده.
نوٹ / توضیح: اس سے ماقبل اور مابعد کی روایات ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2645 سے ماخوذ ہے۔