حدیث نمبر: 2654
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتّاب العَبْدي، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا داود بن أبي هند. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا محمد بن المسيّب، حدثنا إسحاق بن شاهين، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: كان ناسٌ من الأُسارى يوم بدر ليس لهم فِداءٌ، فجعلَ رسول الله ﷺ فِداءَهم أن يُعلِّموا أولادَ الأنصار الكتابةَ، قال: فجاء غلامٌ من أولاد الأنصار إلى أبيه، فقال: ما شأنُك؟ قال: ضربني مُعلِّمي، قال: الخبيثُ يَطلبُ بِذَحْلِ بدرٍ، والله لا تأتيه أبدًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2621 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جنگِ بدر کے کچھ قیدی ایسے تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لیے کچھ نہ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا فدیہ یہ مقرر فرمایا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں، راوی کہتے ہیں: ایک مرتبہ انصار کا ایک بچہ اپنے والد کے پاس آیا تو اس نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرے معلم نے مجھے مارا ہے، تو اس کے والد نے (غصے میں) کہا: یہ خبیث شخص جنگِ بدر کا بدلہ لینا چاہتا ہے، اللہ کی قسم! تم اب کبھی اس کے پاس نہیں جاؤ گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2654
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،من جهة خالد بن عبد الله: وهو الواسطي الطحّان.» [ترقيم الرساله 2654] [ترقيم الشركة 2637] [ترقيم العلميه 2621]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح من جهة خالد بن عبد الله: وهو الواسطي الطحّان.
درجۂ حدیث: خالد بن عبد اللہ (الواسطی الطحان) کی جہت سے یہ سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد (4/ 2216) عن علي بن عاصم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/ 2216) نے علی بن عاصم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج منه ذكر تعليم الكتابة دون قصة الغلام الأنصاري: أبو عبيد في "الأموال" (309)، وابن سعد في "الطبقات الكبرى" 2/ 23 من طريقين عن أيوب السختياني، عن عكرمة، مرسلًا.
حوالہ / مصدر: انصاری لڑکے کے قصے کے بغیر صرف "کتابت (لکھنا پڑھنا) سکھانے" کا ذکر ابو عبید نے "الاموال" (309) میں اور ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (2/ 23) میں ایوب سختیانی عن عکرمہ کے دو طرق سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
والذَّحْل: الثأر.
لغوی تشریح: "الذحل" کا معنی ہے: خون کا بدلہ یا انتقام (ثأر)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2654 سے ماخوذ ہے۔