أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان (2) بن سعيد الدارمي، حدثنا هشام بن عبد الملك الطَّيالسي، حدثنا سليمان بن كثير، حدثنا الزُّهْري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ، أنه سُئِلَ: أَيُّ المؤمنين أكمَلُ إيمانًا؟ قال: "الذي يجاهِدُ في سبيلِ الله بنَفْسِه ومالِه، ورجلٌ يعبُد الله في شِعْبٍ من الشُّعَبِ، وقد كفى الناسَ شَرَّهُ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2390 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2390 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا: ”مومنوں میں سے ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اور وہ شخص جو کسی پہاڑی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أبو هانئ، عن عمرو بن مالك الجَنْبي، أنه سمع فَضَالة بن عُبيد يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "أنا زَعيمٌ - والزعيمُ الحَمِيل - لمن آمنَ وأسلَم وجَاهَد في سبيل الله ببَيتٍ في رَبَضِ الجنةِ، وببيت في وسط الجنة، وأنا زعيمٌ لمن آمنَ وأسلَم وهاجَر ببيتٍ في رَبَضِ الجنة، وببيتٍ في وَسَط الجنة، وببيتٍ في أعلى الجنة، مَن فعلَ ذلك فلم يَدَع للخيرِ مَطلَبًا، ولا من الشرِّ مَهرَبًا، يموت حيثُ شاءَ أن يموتَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2391 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2391 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں اس شخص کا ضامن ہوں—اور زعیم سے مراد کفالت کرنے والا ضامن ہے—جو ایمان لایا، اسلام قبول کیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، کہ اسے جنت کے اطراف میں ایک گھر اور جنت کے وسط میں ایک گھر ملے گا، اور میں اس شخص کا بھی ضامن ہوں جو ایمان لایا، اسلام لایا اور ہجرت کی کہ اسے جنت کے اطراف میں ایک گھر، جنت کے وسط میں ایک گھر اور جنت کے بلند ترین مقام پر ایک گھر ملے گا، جس نے یہ (اعمال) کر لیے اس نے بھلائی کی ہر طلب پوری کر لی اور ہر شر سے بچنے کا راستہ پا لیا، اب اسے جہاں چاہے موت آ جائے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال حدثنا حماد بن سَلَمة، عن قَتَادة، عن مُطرِّف، عن عمران بن حُصين، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تزال طائفةٌ من أُمَّتي يُقاتِلُون على الحقِّ ظاهِرين على مَن ناوَأَهم، حتى يُقاتِلَ آخرُهم المسيحَ الدجال" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2392 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2392 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے قتال کرتا رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجال سے قتال کرے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشّانة المَعَافِري حدثه، أنه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إِنَّ أول ثُلَّةٍ تدخل (1) الجنةَ لَفُقَراءُ المهاجرين الذين تُتَّقى بهم المَكارِهُ، إذا أُمِروا سَمِعُوا وأطاعُوا، وإن كانت لرجل منهم حاجةٌ إلى السلطانِ لم تُقضَ له حتى يموتَ وهي في صَدْره، وإنَّ الله تعالى يدعُو يومَ القيامة الجنةَ، فتأتي بزُخْرُفِها وزينتِها، فيقول: أين عبادي الذين قاتَلُوا في سَبِيلي، وقُتِلوا، وأُوذُوا في سبيلي، وجاهَدوا في سبيلي، ادخُلُوا الجنةَ، فيدخُلُونها بغير حِسابٍ ولا عَذابٍ، وتأتي الملائكةُ فيقولون: ربَّنا نحن نُسبِّحُ لك الليلَ والنهارَ، ونُقدِّسُ لك، مَن هؤلاء الذين آثرتَهم علينا؟ فيقول الربُّ ﵎: هؤلاءِ الذين قاتَلُوا في سبيلي، وأُوذُوا في سبيلي، فتدخُلُ عليهمُ الملائكةُ من كلِّ بابٍ: سلامٌ عليكُم بما صَبَرتُم فنِعْمَ عُقْبَى الدّارِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2393 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2393 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جنت میں داخل ہونے والی پہلی جماعت ان فقراء مہاجرین کی ہوگی جن کے ذریعے سختیوں اور ناگوار حالات کا مقابلہ کیا جاتا تھا، جب انہیں کوئی حکم دیا جاتا تو وہ اسے سنتے اور اطاعت کرتے، اگر ان میں سے کسی کی کوئی حاجت حاکمِ وقت سے وابستہ ہوتی تو وہ پوری ہوئے بغیر ہی فوت ہو جاتا اور وہ ضرورت اس کے سینے میں ہی رہ جاتی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت کو بلائے گا تو وہ اپنی پوری آرائش اور زیب و زینت کے ساتھ حاضر ہوگی، تب اللہ فرمائے گا: کہاں ہیں میرے وہ بندے جنہوں نے میری راہ میں قتال کیا، اور قتل کیے گئے، اور میری راہ میں اذیتیں دی گئیں، اور میری راہ میں جہاد کیا؟ تم سب جنت میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ وہ کسی حساب اور عذاب کے بغیر اس میں داخل ہو جائیں گے، پھر فرشتے حاضر ہو کر عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم دن رات تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں، یہ کون لوگ ہیں جنہیں تو نے ہم پر ترجیح دی ہے؟ تب رب عزوجل فرمائے گا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میری راہ میں قتال کیا اور میری خاطر تکلیفیں اٹھائیں، پھر فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس داخل ہوں گے اور کہیں گے: ﴿سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ﴾ ”تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے بدلے، پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر۔“ [سورة الرعد: 24]“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا الليث بن سعد، عن محمد بن عَجْلان، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ، قال: "لا يجتمعان في النارِ اجتماعًا يَضُرُّ أحدَهما: مسلمٌ قَتَلَ كافرًا، ثم سَدَّد المسلمُ وقارَبَ، ولا يجتمعانِ في جوفِ عبدٍ: غُبارٌ في سبيل الله ودُخانُ جَهنَّم، ولا يجتمعانِ في قَلبِ عبدٍ: الإيمانُ والشُّحُّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1). وقد رُوي عن سهيل بن أبي صالح بإسنادَين آخرين: أحدُهما عن صفوان بن أبي يزيد، عن أبي اللجلاج، عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2394 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1). وقد رُوي عن سهيل بن أبي صالح بإسنادَين آخرين: أحدُهما عن صفوان بن أبي يزيد، عن أبي اللجلاج، عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2394 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہنم کی آگ میں دو شخص اس طرح کبھی جمع نہیں ہوں گے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے: وہ مسلمان جس نے (میدانِ جنگ میں) کسی کافر کو قتل کیا ہو، پھر وہ مسلمان (دین پر) ثابت قدم رہا اور میانہ روی اختیار کی، اور کسی بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی کسی بندے کے دل میں ایمان اور بخل (لالچ) کبھی اکٹھے ہو سکتے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يوسف بن موسى، حدثنا جَرير، عن سهيل، عن صفوان بن أبي يزيد، عن أبي اللَّجْلاج، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يجتمِعُ غُبارٌ في سبيلِ الله ودُخانُ جَهَنَّمَ في جَوفِ عبدٍ أبدًا، ولا يجتمِعُ شُحٌّ وإيمانٌ في قلبِ عبدٍ أبدًا" (2). وقيل: عن سهيل، عن صفوان بن سُلَيم:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہو سکتے، اور کسی بندے کے دل میں بخل اور ایمان کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔“
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسين بن مُكْرَم بالبصرة، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سهيل بن أبي صالح، عن صفوان بن سُليم، عن أبي اللَّجْلاج، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، قال: "لا يَجتمِعُ غُبارٌ في سبيلِ الله ودُخانُ جَهنَّمَ في وجهِ رجلٍ مسلمٍ أبدًا" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے چہرے پر اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن خَير بن نُعَيم، عن سهل بن مُعاذ، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ بَعثَ سَريّةً، فأتته امرأةٌ، فقالت: يا رسول الله، إنك بعثتَ هذه السريةَ، وإنَّ زوجي خَرَجَ فيها، وقد كنتُ أصومُ بصِيامِه، وأُصلي بصلاتِه، وأتعبَّدُ بعِبادتِه، فدُلَّني على عمل أبلُغُ به عملَه، قال: "تُصلِّين فلا تَقعُدِين، وتَصومِينَ فلا تُفطِرين، وتَذْكُرينَ فلا تَفْتُرِينَ"، قالت: وأُطيقُ ذلك يا رسول الله؟ قال: "ولو طُوِّقْتِ ذلك، والذي نفسي بيَدِه ما بلغْتِ العُشَيرَ من عَمَلِهِ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2397 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2397 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا، تو ایک خاتون آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ لشکر روانہ فرمایا ہے اور میرے شوہر بھی اس میں شامل ہیں، میں ان کے روزوں کے ساتھ روزہ رکھتی تھی، ان کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتی تھی اور ان کی عبادت کے مطابق عبادت کرتی تھی، پس مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں ان کے عمل (کے اجر) تک پہنچ جاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم (مسلسل) نماز پڑھتی رہو اور کبھی نہ بیٹھو، (مسلسل) روزہ رکھو اور کبھی افطار نہ کرو، اور (مسلسل) ذکر کرتی رہو اور کبھی سستی نہ دکھاؤ۔“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں یہ کر سکوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم میں اس کی طاقت دے بھی دی جائے، تب بھی اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم ان کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہیں پہنچ پاؤ گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔