المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْمُهَاجِرُونَ باب: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ مہاجرین کا ہوگا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن عيّاش بن عبّاس، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، قال: قال [لي] رسولُ الله ﷺ: "أتعلَمُ أولَ زُمرةٍ تَدخُلُ الجنةَ من أمتي؟ " قال: الله ورسوله أعلمُ، قال: "فقراءُ المهاجرين، يأتون يومَ القيامة إلى باب الجنة ويَستَفْتِحون، فيقول لهم الخَزَنة: أوَقَد حُوسِبتُم؟ قالوا: بأي شيء نُحاسَبُ، وإنما كانت أسيافُنا على عَواتِقِنا في سبيل الله، حتى مِتْنا على ذلك"، قال: "فيُفتَحُ لهم، فيَقِيلُون فيه أربعين عامًا قبل أن يَدخُل الناسُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2389 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ میری امت میں سے سب سے پہلا گروہ کون سا ہو گا جو جنت میں داخل ہو گا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فقراء مہاجرین ہوں گے، وہ قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آئیں گے اور اسے کھلوانا چاہیں گے، تو جنت کے پہرے دار ان سے کہیں گے: کیا آپ لوگوں کا حساب ہو چکا ہے؟ وہ کہیں گے: ہم سے کس چیز کا حساب لیا جائے گا؟ جبکہ ہماری تلواریں تو اللہ کی راہ میں ہمارے کندھوں پر ہی تھیں یہاں تک کہ ہمیں اسی حال میں موت آ گئی“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس ان کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا اور وہ عام لوگوں کے داخل ہونے سے چالیس سال پہلے وہاں قیلولہ (آرام) کریں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3955) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام بیہقی نے اسے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو عوانة (7471) عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوعوانہ نے یونس بن عبدالاعلیٰ کے طریق سے نقل کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا بذكر دخول فقراء المهاجرين قبل الأغنياء بأربعين عامًا: أحمد 11/ (6578) وابن حبان (678) من طريق أبي هانئ حميد بن هانئ الخولاني، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد اور ابن حبان نے اسے مختصراً اس ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے کہ "فقراءِ مہاجرین اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے"۔
وبنحوه أخرجه النسائي (5845) و (11792)، وابن حبان (677) من طريق جبير بن نُفير، عن عبد الله بن عمرو بن العاص.
حوالہ / مصدر: نسائی اور ابن حبان نے اسے حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (2424).
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل رقم (2424) پر ملاحظہ کریں۔