المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا باب: سب سے کامل ایمان والا مومن کون ہے؟
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن خَير بن نُعَيم، عن سهل بن مُعاذ، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ بَعثَ سَريّةً، فأتته امرأةٌ، فقالت: يا رسول الله، إنك بعثتَ هذه السريةَ، وإنَّ زوجي خَرَجَ فيها، وقد كنتُ أصومُ بصِيامِه، وأُصلي بصلاتِه، وأتعبَّدُ بعِبادتِه، فدُلَّني على عمل أبلُغُ به عملَه، قال: "تُصلِّين فلا تَقعُدِين، وتَصومِينَ فلا تُفطِرين، وتَذْكُرينَ فلا تَفْتُرِينَ"، قالت: وأُطيقُ ذلك يا رسول الله؟ قال: "ولو طُوِّقْتِ ذلك، والذي نفسي بيَدِه ما بلغْتِ العُشَيرَ من عَمَلِهِ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2397 - صحيحسیدنا سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا، تو ایک خاتون آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ لشکر روانہ فرمایا ہے اور میرے شوہر بھی اس میں شامل ہیں، میں ان کے روزوں کے ساتھ روزہ رکھتی تھی، ان کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتی تھی اور ان کی عبادت کے مطابق عبادت کرتی تھی، پس مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں ان کے عمل (کے اجر) تک پہنچ جاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم (مسلسل) نماز پڑھتی رہو اور کبھی نہ بیٹھو، (مسلسل) روزہ رکھو اور کبھی افطار نہ کرو، اور (مسلسل) ذکر کرتی رہو اور کبھی سستی نہ دکھاؤ۔“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں یہ کر سکوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم میں اس کی طاقت دے بھی دی جائے، تب بھی اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم ان کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہیں پہنچ پاؤ گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ امام ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ "اتحاف المہرہ" (16615) میں مذکور ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15633) من طريق زبّان بن فائد، عن سهل بن معاذ، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد (15633) نے اسے زبان بن فائد عن سہل بن معاذ کے طریق سے روایت کیا ہے۔