أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حدثنا أحمد بن عِمْران الأخْنَسي، حدثنا يحيى بن يَمَان، عن سفيان، عن علقمة بن مَرْثَد، عن سليمان بن بُرَيدة، عن أبيه قال: زار النبيُّ ﷺ قبرَ أُمِّه في ألفِ مُقنَّعٍ، فلم يُرَ باكيًا أكثرَ من يومِئذٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ہزار نقاب پوش سواروں کے جھرمٹ میں اپنی والدہ کی قبر کی زیارت فرمائی، اور اس دن سے بڑھ کر کبھی کسی کو روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمدُ بنُ يعقوب الحافظ وأبو الفَضْل الحسن بن عقوب العَدْل، قالا: حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفَرَّاء، أخبرنا يعلى بن عُبَيد، حدثنا أبو مُنَيْن يَزيدُ بن كَيْسان، عن أبي حازم، عن أبي هريرةَ، قال: زارَ رسولُ الله ﷺ قبر أُمِّه فبكى وأَبكَى مَن حولَه، ثم قال: "استأذنتُ ربِّي أن أَزورَ قبرَها فأذِنَ لي، واستأذنتُه أن أستغفِرَ لها فلم يُؤذَن لي، فزُورُوا القبورَ فإنها تُذكِّر الموت" (1). وهذا الحديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت فرمائی تو آپ ﷺ رو پڑے اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو بھی رلا دیا، پھر فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، اور میں نے ان کے لیے بخشش کی دعا کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پس تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا أبو شُعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا زهير، حدثنا زُبَيد، عن مُحارِب بن دِثَار، عن ابن بُريدةَ، عن أبيه قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ قريبًا من ألفِ راكبٍ، فنزل بنا فصلَّى بنا ركعتين، ثم أقبَلَ علينا بوَجهِه وعيناه تَذْرِفان، فقام إليه عمر ففدَّاه بالأم والأب يقول: ما لك يا رسول الله؟ قال: "إنِّي استأذنتُ ربِّي ﷿ في الاستغفار لأُمِّي، فلم يأذَنْ لي، فدَمَعَ عينايَ رحمةً لها، واستأذنتُ ربِّي في زيارتها فأَذِنَ لي، وإنِّي كنتُ قد نَهيتُكم عن زيارةِ القبور فزُورُوها، ولْيزِدْكُم زيارتُها خيرًا" (1). و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تقریباً ایک ہزار سواروں کی معیت میں تھے، آپ ﷺ ہمارے پاس اترے اور ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف اپنا رخِ انور پھیرا جبکہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی طرف بڑھے اور اپنے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی، اس لیے ان کی محبت میں میری آنکھیں بھر آئیں، اور میں نے ان کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، اور ان کی زیارت تمہارے لیے خیر میں اضافے کا باعث ہونی چاہیے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد (2) بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى معاذُ بن المثنَّى، حدثنا محمد بن مِنْهالٍ الضَّرير، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا بِسْطام بن مُسلِم، عن أبي التَّيَّاح يزيد بن حُمَيد، عن عبد الله بن أبي مُلَيكةَ: أنَّ عائشةَ أقبلَتْ ذات يومٍ من المقابر، فقلتُ لها: يا أُمَّ المؤمنين، من أين أقبلتِ؟ قالت: مِن قبرِ أخي عبدِ الرحمن بن أبي بكر، فقلتُ لها: أليس كان رسولُ الله ﷺ نَهَى عن زيارة القبور؟ قالت: نعم، كان نَهَى ثم أمَر بزيارتها (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دن قبرستان کی طرف سے آ رہی تھیں، میں نے ان سے عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ کہاں سے آ رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اپنے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکر کی قبر سے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت سے منع نہیں فرمایا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، آپ ﷺ نے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں ان کی زیارت کا حکم دے دیا تھا۔
حدثنا أبو عليٍّ الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا عَبْدانُ الأَهوازيُّ، حدثنا بِشْر بن معاذ العَقَدي، حدثنا عامر بن يِسَاف، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان، عن يحيى بن عبَّاد، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "كنتُ نَهيتُكم عن زيارةِ القبور، ألا فزُورُوها، فإنه يُرِقُّ القلبَ، ويُدمِعُ العينَ، ويُذكِّر الآخرة، ولا تقولوا هُجْرًا" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، خبردار! اب ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دل کو نرم کرتی ہے، آنکھوں کو پرنم کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے، اور (وہاں جا کر) لغو یا نازیبا باتیں نہ کیا کرو۔“
أخبرَناه أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حدثنا سعيد بن عثمان الأهوازي، حدثنا الرَّبيع بن يحيى، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثني يحيى بن عبد الله (1) التَّيمي، عن عمرو بن عامر الأنصاري، عن أنس بن مالكٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "إنِّي كنتُ نَهيتُكم عن زيارة القُبور، فمن شاءَ أن يَزور قبرًا فَلْيَزُرْه، فإنه يُرِقُ القلبَ، ويُدمِعُ العينَ، ويُذكِّر الآخرة" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب جو چاہے قبر کی زیارت کرنا چاہے تو کر لے، کیونکہ یہ دل کو رقیق (نرم) کرتی ہے، آنکھ سے آنسو جاری کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔“