المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
زِيَارَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - قَبْرَ أُمِّهِ باب: رسولُ اللہ ﷺ کا اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا۔
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا أبو شُعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا زهير، حدثنا زُبَيد، عن مُحارِب بن دِثَار، عن ابن بُريدةَ، عن أبيه قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ قريبًا من ألفِ راكبٍ، فنزل بنا فصلَّى بنا ركعتين، ثم أقبَلَ علينا بوَجهِه وعيناه تَذْرِفان، فقام إليه عمر ففدَّاه بالأم والأب يقول: ما لك يا رسول الله؟ قال: "إنِّي استأذنتُ ربِّي ﷿ في الاستغفار لأُمِّي، فلم يأذَنْ لي، فدَمَعَ عينايَ رحمةً لها، واستأذنتُ ربِّي في زيارتها فأَذِنَ لي، وإنِّي كنتُ قد نَهيتُكم عن زيارةِ القبور فزُورُوها، ولْيزِدْكُم زيارتُها خيرًا" (1). و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تقریباً ایک ہزار سواروں کی معیت میں تھے، آپ ﷺ ہمارے پاس اترے اور ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف اپنا رخِ انور پھیرا جبکہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی طرف بڑھے اور اپنے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی، اس لیے ان کی محبت میں میری آنکھیں بھر آئیں، اور میں نے ان کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، اور ان کی زیارت تمہارے لیے خیر میں اضافے کا باعث ہونی چاہیے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ زبید بن الحارث اليامی اور ابن بریدہ (عبداللہ) اس کے راوی ہیں۔ حافظ ابن حجر سے سلیمان بن بریدہ کے نام میں وہم ہوا ہے۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا مسلم (977) (106)، والنسائي (5143)، وابن حبان (5390) من طرق عن أبي خيثمة زهير بن معاوية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (977/106)، نسائی اور ابن حبان (5390) نے زہیر بن معاویہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه تامًّا ومقطّعًا أحمد 38/ (22958)، ومسلم (977) (106) و (1975) (37) و (1999) (63)، والنسائي (2170) و (5142)، وابن حبان (5391) و (5400) من طريق أبي سنان ضرار بن مرة، ومسلم (1999) (65)، وأبو داود (3235) و (3698) من طريق معرِّف بن واصل، كلاهما عن محارب بن دثار، به. وقال ضرار بن مرة في حديثه: عبد الله بن بريدة، وقال معرف: ابن بريدة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم، ابوداؤد (3235) اور ابن حبان نے ضرار بن مرہ اور معرِّف بن واصل کے طریقوں سے محارب بن دثار کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه دون قصة زيارة قبر أمه ﷺ أحمد (23005)، ومسلم (977) (106) من طريق عطاء الخراساني، وأحمد (23015) من طريق سلمة بن كهيل، والنسائي (2171) من طريق المغيرة بن سبيع، ثلاثتهم عن عبد الله بن بريدة، به.
حوالہ / مصدر: بغیر قصے کے اسے احمد اور مسلم نے عطاء الخراسانی، اور نسائی (2171) نے مغیرہ بن سبیع کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك النسائي (5141) من طريق الزبير بن عدي، عن ابن بريدة، عن أبيه. ذكره هكذا ولم يصرح باسمه، لكن خرجه المزي في "التحفة" في ترجمة عبد الله بن بريدة.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (5141) نے زبیر بن عدی کے طریق سے مروایت کیا ہے، جس میں نام کی صراحت نہیں مگر یہ عبداللہ بن بریدہ ہی ہیں۔
وأخرجه تامًّا ومقطعًا أحمد (23016)، ومسلم بإثر (977) (106) وبإثر (1975) (37) وبرقم (1999) (64) من طريق علقمة بن مرثد، وأحمد (23052) من طريق أبي جناب يحيى بن حية الكلبي، كلاهما عن سليمان بن بريدة، عن أبيه. وقد صرَّح علقمة في بعض مواضع مسلم وكذلك أبو جناب باسم سليمان بن بريدة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم اور ابن حبان نے علقمہ بن مرثد اور ابوجناب الکلبی کے طریقوں سے سلیمان بن بریدہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1405).
فنی نکتہ: نمبر (1405) ملاحظہ فرمائیں۔