حدَّثَناه أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه إملاءً، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن عبد الرحمن بن بَهْمان، عن عبد الرحمن بن حسَّان بن ثابت، عن أبيه قال: لَعَنَ رسولُ الله ﷺ زوَّاراتِ القُبور (2). وهذه الأحاديث المرويَّة في النهي عن زيارة القبور منسوخة، والناسخُ لها حديثُ علقمة بن مَرثَد، عن سليمان بن بُرَيدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ: "قد كنتُ قد نهيتُكم عن زيارة القُبور، ألا فزُورُوها، فقد أَذِنَ الله تعالى لنبيِّهِ ﷺ في زيارة قبرِ أُمِّه". وهذا الحديث مخرَّج في الكتابين الصحيحين للشيخين ﵄ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قبروں کی زیارت کی ممانعت کے بارے میں مروی یہ احادیث منسوخ ہیں، اور ان کو منسوخ کرنے والی حدیث علقمہ بن مرثد کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، خبردار! اب ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت عطا فرما دی ہے۔“ اور یہ حدیث شیخین کی دونوں صحیح کتب میں موجود ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قبروں کی زیارت کی ممانعت کے بارے میں مروی یہ احادیث منسوخ ہیں، اور ان کو منسوخ کرنے والی حدیث علقمہ بن مرثد کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، خبردار! اب ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت عطا فرما دی ہے۔“ اور یہ حدیث شیخین کی دونوں صحیح کتب میں موجود ہے۔
وقد حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان. وحدثنا أبو العباس، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم؛ قالا: أخبرنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن يحيى بن حَبّان الأنصاري أخبره، أنَّ واسعَ بنَ حَبَّان حدّثه، أنَّ أبا سعيدٍ الخُدْري حدثه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "نَهيتُكم عن زيارة القُبور فزُوروها، فإنَّ فيها عِبرةً، ونهيتُكم عن النَّبيذ، ألا فانْبِذُوا، ولا أُحِلُّ مُسكِرًا، ونهيتُكم عن لحوم الأضاحيِّ، فكُلُوا وادَّخِروا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس میں عبرت ہے، اور میں نے تمہیں نبیذ (پھلوں کے شربت) سے منع کیا تھا، پس اب تم اسے بنا لیا کرو لیکن میں کسی بھی نشہ آور چیز کو حلال نہیں کرتا، اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (ذخیرہ کرنے) سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھاؤ اور ذخیرہ بھی کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني ابن جُرَيج، عن أيوب بن هانئ، عن مسروق بن الأجْدَع، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنِّي كنتُ نهيتُكم عن زيارة القُبور، وأكلِ لُحومِ الأضاحيِّ فوقَ ثلاثٍ، وعن نَبيذِ الأوعية، ألا فزُورُوا القُبور فإنها تُزهِّد في الدنيا وتُذكِّر الآخرة، وكلوا لحومَ الأضاحيِّ وأَبقُوا ما شِئتُم، فإنما نهيتُكم عنه إذِ الخيرُ قليلٌ، تَوسِعةً على الناس، ألا إنَّ وعاءً لا يُحرِّم شيئًا، فإِنَّ كلَّ مُسكِرٍ حرامٌ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے، تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے اور مخصوص برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، خبردار! اب قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے، اور قربانی کا گوشت کھاؤ اور جتنا چاہو بچا کر رکھو، میں نے تو تمہیں اس وقت منع کیا تھا جب (تنگدستی کی وجہ سے) خیر کم تھی تاکہ لوگوں کے لیے وسعت پیدا ہو، خبردار! کوئی برتن خود سے کسی چیز کو حرام نہیں کرتا بلکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عمرو البزّاز ببغداد، حدثنا محمد بن شاذانَ الجَوهَريُّ، حدثنا زكريا بن عَدِيٍّ، حدثنا سَلَّام بن سُلَيم، عن يحيى الجابر، عن عمرو بن عامر، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "نَهيتُكم عن زيارة القُبور فزُورُوها، فإنها تُذكِّركم الموتَ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہیں۔“