المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
زِيَارَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - قَبْرَ أُمِّهِ باب: رسولُ اللہ ﷺ کا اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا۔
حدیث نمبر: 1410
أخبرَناه أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حدثنا سعيد بن عثمان الأهوازي، حدثنا الرَّبيع بن يحيى، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثني يحيى بن عبد الله (1) التَّيمي، عن عمرو بن عامر الأنصاري، عن أنس بن مالكٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "إنِّي كنتُ نَهيتُكم عن زيارة القُبور، فمن شاءَ أن يَزور قبرًا فَلْيَزُرْه، فإنه يُرِقُ القلبَ، ويُدمِعُ العينَ، ويُذكِّر الآخرة" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب جو چاہے قبر کی زیارت کرنا چاہے تو کر لے، کیونکہ یہ دل کو رقیق (نرم) کرتی ہے، آنکھ سے آنسو جاری کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ص) وهامش (ز): عبيد الله، وهو خطأ، والصواب ما في أصل (ز)، وهو يحيى الجابر.
فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "عبیداللہ" ہو گیا تھا، درست "یحییٰ الجابر" ہے۔
(2) صحيح لغيره، وانظر ما قبله، وما سلف برقم (1404).
درجۂ حدیث: (2) "صحیح لغیرہ" ہے؛ نمبر (1404) ملاحظہ فرمائیں۔
فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "عبیداللہ" ہو گیا تھا، درست "یحییٰ الجابر" ہے۔
(2) صحيح لغيره، وانظر ما قبله، وما سلف برقم (1404).
درجۂ حدیث: (2) "صحیح لغیرہ" ہے؛ نمبر (1404) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1410 سے ماخوذ ہے۔