کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: روح قبض کرنے کے وقت فرشتۂ موت کی آمد اور قبر میں مومن و کافر کے حالات کا بیان
حدثني محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا الأعمش، فذكره بإسناده نحوه، وقال في آخره: وحدثنا علي بن المنذر في عَقِبِ خبره، حدثنا ابن فضيل، حدثني أَبي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة نحوًا من هذا الحديث؛ يريد حديث البراءِ، إلَّا أنه قال: "ارقُدْ رِقْدةَ المتَّقين" للمؤمن الأول، ويقال للفاجر: "ارقُدْ منهوشًا، فما من دابَّةٍ في الأرض إلَّا ولها في جسدِه نصيبٌ" (2). وقد رواه سفيان بن سعيد وشُعْبة بن الحَجَّاج وزائدة بن قُدَامة - وهم الأئمة الحفّاظ - عن الأعمش. أما حديث الثَّوري:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے براء بن عازب کی سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، مگر اس کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ (مومن سے کہا جاتا ہے): ”ایسے سو جاؤ جیسے متقی لوگ سوتے ہیں“، اور فاجر کے بارے میں کہا جاتا ہے: ”ایسے سو جاؤ جیسے وہ سوتا ہے جسے ڈسا گیا ہو، کیونکہ زمین کا کوئی بھی جانور ایسا نہیں ہوگا جس کا اس کے جسم میں حصہ (یعنی اسے ڈسنے کا عمل) نہ ہو۔“
اس حدیث کو سفیان ثوری، شعبہ بن حجاج اور زائدہ بن قدامہ جیسے ائمہ حفاظ نے اعمش سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو سفیان ثوری، شعبہ بن حجاج اور زائدہ بن قدامہ جیسے ائمہ حفاظ نے اعمش سے روایت کیا ہے۔
فحدَّثَناه أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجَلّاب بهَمَذان - وأنا سألته - حدثنا محمد بن إبراهيم الصُّوري، حدثنا مؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو عن زاذانَ، عن البراء قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةٍ، فأتينا القبرَ ولمَّا يُلحَدْ … وذكر الحديث (1). وأما حديث شعبة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، ہم قبر پر پہنچے اور ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی... (پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی)۔
فحدَّثَنيهِ أبو سعيد بن أبي بكر بن أبي عثمان ﵏ وأنا سألتُه، حدثنا علي بن سَلْم (2) الأصبهاني بالرَّيّ، حدثنا عمّار بن رجاء، حدثنا محمد بن بكر البُرْساني، عن شعبة، عن الأعمش، عن المنهال بن عمرو عن زاذان، عن البراء، عن النبي ﷺ؛ في حديث القبر (3). وأما حديث زائدة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 110 - على شرطهما فقد احتجا بالمنهال_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ زَائِدَةَ ""،
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 110 - على شرطهما فقد احتجا بالمنهال_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ زَائِدَةَ ""،
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قبر کے احوال کے متعلق حدیث بیان فرمائی... (پھر راوی نے سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی)۔
فحدثنا أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا معاوية بن عمرو الأزدي، حدثنا زائدة، عن الأعمش، عن المنهال بن عمرو، عن زاذانَ، عن البراء قال: صَلَّينا مع رسول الله ﷺ على جنازةِ رجلٍ من الأنصار، فذكر حديثَ القبر بطوله (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا جميعًا بالمنهال بن عمرو وزاذان أبي عمر الكِنْدي (1). وفي هذا الحديث فوائدُ كثيرةٌ لأهل السُّنة وقمعٌ للمبتدِعة، ولم يُخرجاه بطوله (2). وله شواهد على شرطهما يُستدَلُّ بها على صحته:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا جميعًا بالمنهال بن عمرو وزاذان أبي عمر الكِنْدي (1). وفي هذا الحديث فوائدُ كثيرةٌ لأهل السُّنة وقمعٌ للمبتدِعة، ولم يُخرجاه بطوله (2). وله شواهد على شرطهما يُستدَلُّ بها على صحته:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے قبر کے احوال والی طویل حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ان دونوں نے منہال بن عمرو اور زاذان ابو عمر کندی سے احتجاج کیا ہے، اور اس حدیث میں اہل سنت کے لیے بہت سے فوائد اور بدعتیوں کے لیے رد ہے، تاہم ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے اس قدر طوالت کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ان دونوں نے منہال بن عمرو اور زاذان ابو عمر کندی سے احتجاج کیا ہے، اور اس حدیث میں اہل سنت کے لیے بہت سے فوائد اور بدعتیوں کے لیے رد ہے، تاہم ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے اس قدر طوالت کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حدَّثناه أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي ببغداد وأبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، قالا: حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا وَهْب بن جَرير، حدثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق، عن البراء بن عازب قال: ذَكَرَ النبيُّ ﷺ المؤمنَ والكافرَ؛ ثم ذكر طرفًا من حديث القبر (3). فقد بانَ بالأصل والشاهد صحَّةُ هذا الحديث، ولعل متوهِّمًا يَتوهَّم أنَّ الحديث الذي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مومن اور کافر (کے احوال) کا تذکرہ فرمایا، پھر انہوں نے حدیثِ قبر کا کچھ حصہ بیان کیا۔
پس اصل اور شاہد دونوں سے اس حدیث کی صحت واضح ہوگئی۔
پس اصل اور شاہد دونوں سے اس حدیث کی صحت واضح ہوگئی۔
حدَّثَناه أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزّاز ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن كُزَال، حدثنا أبو إبراهيم التَّرْجُماني، حدثنا شعيب بن صفوان، حدثنا يونس بن خَبّاب، عن المنهال بن عمرو عن زاذانَ، عن أبي البَخْتَريّ الطائي، سمعتُ البراءَ بن عازب أنه قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةِ رجلٍ من الأنصار، فأَتينا القبرَ ولمَّا يُلحَدْ، فجلس رسولُ الله ﷺ واستقبل القِبلةَ، وجلسنا حولَه … ثم ذكر الحديث يُعلِّل به هذا الحديثَ، وليس كذلك، فإِنَّ ذِكرَ أبي البَختَري في هذا الحديث وهمٌ من شعيب بن صفوان لإجماع الأئمة الثّقات على روايته عن يونس بن خبَّاب عن المنهال بن عمرو عن زاذان أنه سمع البراء (1).
حافظ طلحہ بابر
(امام حاکم فرماتے ہیں کہ) شاید کوئی یہ وہم کرے کہ جس حدیث کی سند میں ابو البختری کا ذکر ہے وہ اسے معلول (عیب دار) قرار دیتی ہے، مگر ایسا نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث میں ابو البختری کا ذکر شعیب بن صفوان کا وہم ہے، اس بات پر ثقہ ائمہ کا اجماع ہے کہ یونس بن خباب اس حدیث کو منہال بن عمرو عن زاذان کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا براء سے سنا۔
حدَّثنا بصحَّة ما ذكرتُه جعفرُ بن محمد بن نُصَير (2) الخُلْدي إملاءً ببغداد، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا إبراهيم بن زياد سَبَلانُ، حدثنا عبَّاد بن عبَّاد قال: أتيتُ يونسَ بن خبَّاب بمنًى عند المنارة وهو يقصُّ، فسألته عن حديث عذاب القبر، فحدَّثني به.
حافظ طلحہ بابر
(امام حاکم فرماتے ہیں کہ) میری مذکورہ بات کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ عباد بن عباد نے کہا: میں منٰی میں مینارے کے پاس یونس بن خباب کے پاس آیا جبکہ وہ وعظ کر رہے تھے، میں نے ان سے عذابِ قبر والی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ سنائی۔
وأخبرني أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد بن أحمد بن يوسف السُّلَمي، أخبرنا أبومسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا أبو عمر (3) الضرير، حدثنا مَهْدي بن ميمون، عن يونس بن خبَّاب. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يونس بن خبّاب، عن المِنهال بن عمرو، عن زاذانَ، عن البراء بن عازب - وفي حديث عبّاد بن عبّاد: أنه سمع البراءَ بن عازب - قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةٍ، فجلس رسولُ الله ﷺ على القبر وجلسنا حولَه … وذكر الحديث بطوله (4). هذا هو الصحيح المحفوظ من حديث يونس بن خبّاب، وهكذا رواه أبو خالد الدَّالانيُّ، وعمرو بن قيس المُلَائي، والحسن بن عُبيد الله النَّخَعي، عن المنهال بن عمرو. أما حديث أبي خالد الدَّالاني:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، رسول اللہ ﷺ قبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم آپ ﷺ کے گرد بیٹھ گئے... پھر راوی نے پوری لمبی حدیث بیان کی۔
یونس بن خباب کی روایت میں یہی بات صحیح اور محفوظ ہے، اور اسی طرح اسے ابو خالد دالانی، عمرو بن قیس ملائی اور حسن بن عبید اللہ نخعی نے منہال بن عمرو سے روایت کیا ہے۔
یونس بن خباب کی روایت میں یہی بات صحیح اور محفوظ ہے، اور اسی طرح اسے ابو خالد دالانی، عمرو بن قیس ملائی اور حسن بن عبید اللہ نخعی نے منہال بن عمرو سے روایت کیا ہے۔
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا السَّرِيُّ بن يحيى التميمي، حدثنا أبو غسّان، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، حدثنا أبو خالد الدَّالاني، عن المنهال بن عمرو (1). وأما حديث عمرو بن قيس المُلَائي:
حافظ طلحہ بابر
(پچھلی بات کا تسلسل) رہی ابو خالد دالانی کی حدیث تو اسے السری بن یحییٰ تیمی نے ان سے روایت کیا ہے۔
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن بشر المَرثَدي، حدثنا القاسم بن محمد بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن عمرو بن قيس المُلائي، عن المنهال بن عمرو (2). وأما حديث الحسن بن عبيد الله:
حافظ طلحہ بابر
اور عمرو بن قیس ملائی کی حدیث کو ابو خالد احمر نے ان سے روایت کیا ہے۔
فحدَّثَناه أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدثنا الحسن بن عبيد الله، عن المنهال؛ كلُّهم قالوا: عن زاذانَ، عن البراءِ، عن النبي ﷺ نحوَه. هذه الأسانيد التي ذكرتُها كلها صحيحة على شرط الشيخين!
حافظ طلحہ بابر
اور حسن بن عبید اللہ کی حدیث کو ابوبکر بن عیاش نے ان سے روایت کیا ہے؛ ان تمام راویوں نے «عن زاذان عن البراء عن النبى صلى الله عليه وسلم» کے الفاظ کہے ہیں۔
یہ تمام اسانید جن کا میں نے ذکر کیا ہے، شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔
یہ تمام اسانید جن کا میں نے ذکر کیا ہے، شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعافى بن سليمان الحرَّاني، حدثنا فُلَيح بن سليمان، حدثني هلال بن علي - وهو ابن أبي ميمونة - عن أنس بن مالك قال: بَيْنا رسولُ الله ﷺ وبلالٌ يمشيان بالبَقيع، فقال رسول الله ﷺ: "يا بلالُ، هل تسمعُ ما أسمعُ؟ " قال: لا والله يا رسول الله، ما أَسمعُه، قال: "ألَا تسمعُ أهلَ القبور يُعذَّبون" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث شُعْبة عن قتادة عن أنس عن النبي ﷺ أنه قال: "لولا أن لا (2) تَدافَنُوا، لسألتُ اللهَ أن يُسمِعَكم عذابَ القبر" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 118 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث شُعْبة عن قتادة عن أنس عن النبي ﷺ أنه قال: "لولا أن لا (2) تَدافَنُوا، لسألتُ اللهَ أن يُسمِعَكم عذابَ القبر" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 118 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بقیع (قبرستان) میں چل رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يا بلالُ، هل تسمعُ ما أسمعُ؟» ”اے بلال! کیا تم وہ سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! میں نہیں سن رہا، آپ ﷺ نے فرمایا: «ألَا تسمعُ أهلَ القبور يُعذَّبون» ”کیا تم قبر والوں کو نہیں سن رہے جنہیں عذاب دیا جا رہا ہے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، تاہم انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اس کی تخریج نہیں کی، انہوں نے صرف «شعبه عن قتاده عن انس» کی حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم (ڈر کے مارے) اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر سنا دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، تاہم انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اس کی تخریج نہیں کی، انہوں نے صرف «شعبه عن قتاده عن انس» کی حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم (ڈر کے مارے) اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر سنا دے۔“