کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر علما پر، پھر نیک لوگوں پر
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان المُرَادي وبَحْر بن نصر بن سابق الخَوْلاني؛ قال الربيع: حدثنا، وقال بحر: أخبرنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني هشام بن سعد، عن زيد بن أَسلَم، عن عطاء بن يَسَار: أنَّ أبا سعيد الخُدْري دخل على رسول الله ﷺ وهو موعوكٌ عليه قَطِيفة، فَوَضَعَ يدَه عليها فوَجَدَ حرارتَها فوق القَطِيفة، فقال أبو سعيد: ما أشدَّ حرَّ حُمّاكَ يا رسول الله! فقال رسول الله ﷺ: "إِنَّا كذلك يُشدَّدُ علينا البلاءُ، ويُضاعَفُ لنا الأجرُ" ثم قال: يا رسول الله، مَن أشدُّ الناسِ بلاءً؟ قال: "الأنبياءُ" قال: ثم مَن؟ قال: "العلماءُ" قال: ثمَّ مَن؟ قال: "ثمَّ الصالحون، كان أحدُهم يُبتَلى بالفقر حتى ما يَجِدُ إِلَّا العَبَاءةَ يَلبَسُها، ويُبتَلى بالقَمْل حتى يقتلَه، ولَأَحدُهم كان أشدَّ فرحًا بالبلاءِ من أحدِكم بالعطاء" (1). حدثنا أبو العباس عن بحر في "المسند"، وعن الرَّبيع في "الفوائد"، وأنا جمعتُ بينهما.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بهشام بن سعد، ثم له شواهد كثيرة، ولحديث عاصم بن بَهْدلة عن مصعب بن سعد عن أبيه طرق تُتبع ويُذاكَر بها، وقد تابع العلاءُ بن المسيَّب عاصمَ بن بَهْدَلة على روايته عن مصعب بن سعد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 119 - على شرط مسلم وله شواهد كثيرة
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بهشام بن سعد، ثم له شواهد كثيرة، ولحديث عاصم بن بَهْدلة عن مصعب بن سعد عن أبيه طرق تُتبع ويُذاكَر بها، وقد تابع العلاءُ بن المسيَّب عاصمَ بن بَهْدَلة على روايته عن مصعب بن سعد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 119 - على شرط مسلم وله شواهد كثيرة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ بخار کی شدت میں مبتلا تھے اور آپ ﷺ پر ایک چادر تھی، انہوں نے اپنا ہاتھ اس چادر پر رکھا تو انہیں چادر کے اوپر سے ہی تپش محسوس ہوئی، تو ابوسعید نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا بخار کتنا شدید ہے! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّا كذلك يُشدَّدُ علينا البلاءُ، ويُضاعَفُ لنا الأجرُ» ”ہمارا (انبیاء کا) معاملہ ایسا ہی ہے کہ ہم پر آزمائش سخت کی جاتی ہے اور ہمارا اجر بھی دوگنا کر دیا جاتا ہے“، پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن پر ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «الأنبياءُ» ”انبیاء پر“، انہوں نے پوچھا: پھر کن پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «العلماءُ» ”علماء پر“، پوچھا: پھر کن پر؟ فرمایا: «ثمَّ الصالحون، كان أحدُهم يُبتَلى بالفقر حتى ما يَجِدُ إِلَّا العَبَاءةَ يَلبَسُها، ويُبتَلى بالقَمْل حتى يقتلَه، ولَأَحدُهم كان أشدَّ فرحًا بالبلاءِ من أحدِكم بالعطاء» ”پھر صالحین پر؛ ان میں سے کوئی غربت کے ذریعے اس طرح آزمایا جاتا کہ اس کے پاس پہننے کے لیے ایک چادر کے سوا کچھ نہ ہوتا، اور کسی کو جوؤں کے ذریعے (کثرت کی بنا پر) آزمایا جاتا یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دیتیں، اور ان میں سے ایک شخص اپنی آزمائش پر اس سے زیادہ خوش ہوتا تھا جتنا تم میں سے کوئی اللہ کی عطا پر خوش ہوتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے ہشام بن سعد سے احتجاج کیا ہے، پھر اس کے بہت سے شواہد بھی موجود ہیں، اور «عاصم بن بهدله عن مصعب بن سعد عن ابيه» کی حدیث کے بہت سے طرق ہیں جن کا تذکرہ مذاکرہ علم میں ہوتا ہے، اور علاء بن مسیب نے عاصم بن بہدلہ کی متابعت کی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے ہشام بن سعد سے احتجاج کیا ہے، پھر اس کے بہت سے شواہد بھی موجود ہیں، اور «عاصم بن بهدله عن مصعب بن سعد عن ابيه» کی حدیث کے بہت سے طرق ہیں جن کا تذکرہ مذاکرہ علم میں ہوتا ہے، اور علاء بن مسیب نے عاصم بن بہدلہ کی متابعت کی ہے۔
أخبرَنيهِ أبو بكر بن إسحاق الفقيه - فيما قرأتُ عليه من أصل كتابه - أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا خالد بن عبد الله، عن العلاء بن المسيَّب، عن مُصعَب بن سعد، عن أبيه قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ: أَيُّ الناس أشدُّ بَلاءً؟ قال: "الأنبياءُ، ثمَّ الأمثلُ فالأمثلُ، فإذا كان الرجل صُلْبَ الدِّين، يُبتَلى الرجلُ على قَدْرٍ دينه، فمَن ثَخُنَ دينُه ثَخُنَ بلاؤُه، ومَن ضَعُفَ دينُه ضَعُفَ بلاؤُه" (1). و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وشاهده:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وشاهده:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا: لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن پر ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء پر، پھر ان پر جو ان کے بعد (مرتبے میں) سب سے بہتر ہوں، پھر ان پر جو ان کے بعد سب سے بہتر ہوں۔ جب آدمی اپنے دین میں مضبوط ہوتا ہے، تو اسے اس کے دین کی قدر کے مطابق آزمایا جاتا ہے؛ جس کا دین جتنا ٹھوس ہوگا، اس کی آزمائش اتنی ہی سخت ہوگی، اور جس کا دین کمزور ہوگا اس کی آزمائش بھی (اسی لحاظ سے) ہلکی ہوگی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
ما حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن إسرائيل الجَوْهري، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدةُ. وأخبرنا [أبو] (2) الحسين بن تميم القَنطَري، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفَّان، حدثنا حماد بن سلمة وحماد بن زيد وأَبَان العطَّار. وأخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا شَرِيك بن عبد الله. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأَشيَب، حدثنا شَيْبان. وأخبرنا أبو العباس المحبوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان. وأخبرني أبو عمرو بن أبي سعيد النَّحْوي، حدثنا الحسين بن عبد الله بن يزيد الرَّقِّي، حدثنا عُقْبة بن مُكرَم، حدثنا سَلْم بن قُتيبة، حدثنا هشام بن أبي عبد الله. وأخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا أحمد بن يونس وأبو بكر بن أبي شَيْبة قالا: حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، كلهم عن عاصم بن أبي النَّجُود -وهذا لفظ حديث شَيْبان بن عبد الرحمن عن عاصم- عن مصعب بن سعد بن أبي وقَّاص، عن أبيه قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ: مَن أَشدُّ الناس بلاءً؟ قال: "النبيُّونَ، ثم الأمثلُ فالأمثلُ، يُبتلى الرجلُ على حَسَبِ دينِه، فإن كان صُلْبَ الدِّين اشتدَّ، بلاؤُه، وإن كان في دينه رِقَّةٌ ابتُلي على حَسَبِ دينِهِ، فما يَبْرَحُ البلاء على العبد حتى يَدَعَه يمشي على الأرض ليس عليه خَطِيئةٌ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: سب سے سخت آزمائش کن پر ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نبیوں پر، پھر ان پر جو مرتبے میں سب سے بہتر ہوں، پھر جو ان کے بعد بہتر ہوں۔ آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، اگر وہ دین میں مضبوط ہو تو اس کی آزمائش سخت ہو جاتی ہے، اور اگر اس کے دین میں نرمی (کمزوری) ہو تو اسے اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ پھر بندے پر آزمائشیں مسلسل آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اسے اس حال میں چھوڑتی ہیں کہ وہ زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔“