حدیث نمبر: 109
فحدَّثَناه أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجَلّاب بهَمَذان - وأنا سألته - حدثنا محمد بن إبراهيم الصُّوري، حدثنا مؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو عن زاذانَ، عن البراء قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةٍ، فأتينا القبرَ ولمَّا يُلحَدْ … وذكر الحديث (1). وأما حديث شعبة:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، ہم قبر پر پہنچے اور ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی... (پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی)۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 109
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن إبراهيم الصُّوري، لكن الحديث صحيح من طرقه الأخرى التي ذكرها المصنف» [ترقيم الرساله 109] [ترقيم الشركة 109]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن إبراهيم الصُّوري، لكن الحديث صحيح من طرقه الأخرى التي ذكرها المصنف.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ یہ مخصوص سند محمد بن ابراہیم صوری کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم دیگر طرق کی وجہ سے (جنہیں مصنف نے ذکر کیا ہے) یہ صحیح ثابت ہے۔
وأخرج أوله مختصرًا أحمد 30/ (18625) عن عبد الرزاق، عن سفيان، بهذ الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اپنی مسند (30/18625) میں اس کا ابتدائی حصہ مختصراً عبدالرزاق عن سفیان (ثوری) کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 109 سے ماخوذ ہے۔