المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ عِنْدَ قَبْضِ الرُّوحِ ، وَذِكْرُ مَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْقَبْرِ لِلْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ باب: روح قبض کرنے کے وقت فرشتۂ موت کی آمد اور قبر میں مومن و کافر کے حالات کا بیان
حدیث نمبر: 113
حدَّثَناه أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزّاز ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن كُزَال، حدثنا أبو إبراهيم التَّرْجُماني، حدثنا شعيب بن صفوان، حدثنا يونس بن خَبّاب، عن المنهال بن عمرو عن زاذانَ، عن أبي البَخْتَريّ الطائي، سمعتُ البراءَ بن عازب أنه قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةِ رجلٍ من الأنصار، فأَتينا القبرَ ولمَّا يُلحَدْ، فجلس رسولُ الله ﷺ واستقبل القِبلةَ، وجلسنا حولَه … ثم ذكر الحديث يُعلِّل به هذا الحديثَ، وليس كذلك، فإِنَّ ذِكرَ أبي البَختَري في هذا الحديث وهمٌ من شعيب بن صفوان لإجماع الأئمة الثّقات على روايته عن يونس بن خبَّاب عن المنهال بن عمرو عن زاذان أنه سمع البراء (1).
حافظ طلحہ بابر
(امام حاکم فرماتے ہیں کہ) شاید کوئی یہ وہم کرے کہ جس حدیث کی سند میں ابو البختری کا ذکر ہے وہ اسے معلول (عیب دار) قرار دیتی ہے، مگر ایسا نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث میں ابو البختری کا ذکر شعیب بن صفوان کا وہم ہے، اس بات پر ثقہ ائمہ کا اجماع ہے کہ یونس بن خباب اس حدیث کو منہال بن عمرو عن زاذان کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا براء سے سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ويونس بن خباب نفسه مختلف فيه، والراجح عند جمهور المحدثين تضعيف حديثه، وأبو البَختري الطائي - واسمه سعيد بن فيروز - ثقة.
فنی نکتہ / علّت: یونس بن خباب کے بارے میں محدثین کا اختلاف ہے، تاہم جمہور کے نزدیک ان کی حدیث ضعیف ہے۔ جبکہ ابوالبختری طائی (سعید بن فیروز) ثقہ راوی ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: یونس بن خباب کے بارے میں محدثین کا اختلاف ہے، تاہم جمہور کے نزدیک ان کی حدیث ضعیف ہے۔ جبکہ ابوالبختری طائی (سعید بن فیروز) ثقہ راوی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 113 سے ماخوذ ہے۔