حدیث نمبر: 112
حدَّثناه أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي ببغداد وأبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، قالا: حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا وَهْب بن جَرير، حدثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق، عن البراء بن عازب قال: ذَكَرَ النبيُّ ﷺ المؤمنَ والكافرَ؛ ثم ذكر طرفًا من حديث القبر (3). فقد بانَ بالأصل والشاهد صحَّةُ هذا الحديث، ولعل متوهِّمًا يَتوهَّم أنَّ الحديث الذي:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مومن اور کافر (کے احوال) کا تذکرہ فرمایا، پھر انہوں نے حدیثِ قبر کا کچھ حصہ بیان کیا۔
پس اصل اور شاہد دونوں سے اس حدیث کی صحت واضح ہوگئی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 112
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل يحيى بن أبي طالب» [ترقيم الرساله 112] [ترقيم الشركة 112]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده قوي من أجل يحيى بن أبي طالب.
درجۂ حدیث: یحییٰ بن ابی طالب کی موجودگی کی وجہ سے یہ سند قوی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "إثبات عذاب القبر" (4) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "اثبات عذاب القبر" (4) میں ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا عن شيخ آخر عن عثمان بن أحمد بن السمّاك، عن يحيى بن أبي طالب، به.
متابعات و شواہد: امام بیہقی نے اسے ایک اور استاد کے واسطے سے عثمان بن احمد بن سماک عن یحییٰ بن ابی طالب کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 112 سے ماخوذ ہے۔