المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ عِنْدَ قَبْضِ الرُّوحِ ، وَذِكْرُ مَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْقَبْرِ لِلْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ باب: روح قبض کرنے کے وقت فرشتۂ موت کی آمد اور قبر میں مومن و کافر کے حالات کا بیان
حدیث نمبر: 116
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا السَّرِيُّ بن يحيى التميمي، حدثنا أبو غسّان، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، حدثنا أبو خالد الدَّالاني، عن المنهال بن عمرو (1). وأما حديث عمرو بن قيس المُلَائي:
حافظ طلحہ بابر
(پچھلی بات کا تسلسل) رہی ابو خالد دالانی کی حدیث تو اسے السری بن یحییٰ تیمی نے ان سے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل الدالاني. أبو غسان: هو مالك بن إسماعيل النهدي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور دالانی (یزید بن ابی زیاد) کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابوغسان سے مراد مالک بن اسماعیل نہدی ہیں۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور دالانی (یزید بن ابی زیاد) کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابوغسان سے مراد مالک بن اسماعیل نہدی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 116 سے ماخوذ ہے۔