المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ عِنْدَ قَبْضِ الرُّوحِ ، وَذِكْرُ مَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْقَبْرِ لِلْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ باب: روح قبض کرنے کے وقت فرشتۂ موت کی آمد اور قبر میں مومن و کافر کے حالات کا بیان
حدیث نمبر: 115
وأخبرني أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد بن أحمد بن يوسف السُّلَمي، أخبرنا أبومسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا أبو عمر (3) الضرير، حدثنا مَهْدي بن ميمون، عن يونس بن خبَّاب. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يونس بن خبّاب، عن المِنهال بن عمرو، عن زاذانَ، عن البراء بن عازب - وفي حديث عبّاد بن عبّاد: أنه سمع البراءَ بن عازب - قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةٍ، فجلس رسولُ الله ﷺ على القبر وجلسنا حولَه … وذكر الحديث بطوله (4). هذا هو الصحيح المحفوظ من حديث يونس بن خبّاب، وهكذا رواه أبو خالد الدَّالانيُّ، وعمرو بن قيس المُلَائي، والحسن بن عُبيد الله النَّخَعي، عن المنهال بن عمرو. أما حديث أبي خالد الدَّالاني:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، رسول اللہ ﷺ قبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم آپ ﷺ کے گرد بیٹھ گئے... پھر راوی نے پوری لمبی حدیث بیان کی۔
یونس بن خباب کی روایت میں یہی بات صحیح اور محفوظ ہے، اور اسی طرح اسے ابو خالد دالانی، عمرو بن قیس ملائی اور حسن بن عبید اللہ نخعی نے منہال بن عمرو سے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) في (ص) والمطبوع: أبو عَمرو، وهو خطأ. وأبو عُمر هذا: هو حفص بن عمر البصري.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور مطبوعہ میں "ابوعمرو" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام "ابوعمر" ہے جو کہ حفص بن عمر بصری ہیں۔
(4) إسناده ضعيف من أجل يونس بن خبّاب، وفي سياق حديثه بعض حروفٍ تفرَّد بها ليست في روايات الثقات لهذا الحديث.
درجۂ حدیث: یونس بن خباب کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یونس نے اس حدیث کے سیاق میں بعض ایسے الفاظ بیان کیے ہیں جن میں وہ تنہا ہیں اور ثقہ راویوں کی روایات میں وہ الفاظ موجود نہیں ہیں۔
وأخرجه أحمد بطوله 30/ (18614) عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اپنی مسند (30/18614) میں عبدالرزاق کے واسطے سے یہ حدیث تفصیلاً روایت کی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور مطبوعہ میں "ابوعمرو" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام "ابوعمر" ہے جو کہ حفص بن عمر بصری ہیں۔
(4) إسناده ضعيف من أجل يونس بن خبّاب، وفي سياق حديثه بعض حروفٍ تفرَّد بها ليست في روايات الثقات لهذا الحديث.
درجۂ حدیث: یونس بن خباب کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یونس نے اس حدیث کے سیاق میں بعض ایسے الفاظ بیان کیے ہیں جن میں وہ تنہا ہیں اور ثقہ راویوں کی روایات میں وہ الفاظ موجود نہیں ہیں۔
وأخرجه أحمد بطوله 30/ (18614) عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اپنی مسند (30/18614) میں عبدالرزاق کے واسطے سے یہ حدیث تفصیلاً روایت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 115 سے ماخوذ ہے۔