حدیث نمبر: 114
حدَّثنا بصحَّة ما ذكرتُه جعفرُ بن محمد بن نُصَير (2) الخُلْدي إملاءً ببغداد، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا إبراهيم بن زياد سَبَلانُ، حدثنا عبَّاد بن عبَّاد قال: أتيتُ يونسَ بن خبَّاب بمنًى عند المنارة وهو يقصُّ، فسألته عن حديث عذاب القبر، فحدَّثني به.
حافظ طلحہ بابر

(امام حاکم فرماتے ہیں کہ) میری مذکورہ بات کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ عباد بن عباد نے کہا: میں منٰی میں مینارے کے پاس یونس بن خباب کے پاس آیا جبکہ وہ وعظ کر رہے تھے، میں نے ان سے عذابِ قبر والی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ سنائی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 114
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 114]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في (ب) والمطبوع إلى: نصر.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) اور مطبوعہ کتاب میں یہاں "نصر" کا لفظ تحریف کا شکار ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 114 سے ماخوذ ہے۔