کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: زیور چڑھی تلوار، زیور چڑھے سامان اور مصحف وغیرہ کی بیع کا بیان
٢١٣٨٥ - حدثنا شريك بن عبد اللَّه (عن إبراهيم بن مهاجر) (١) عن إبراهيم قال: كان (خباب) (٢) (قينا) (٣)، وكان ربما اشترى السيف المحلى بالورق وربما ذكر المصحف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت خباب لوہار تھے وہ بعض اوقات چاندی چڑھی تلواریں خریدتے تھے۔ اور کبھی مصحف کا ذکر بھی کیا۔
٢١٣٨٦ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن حصين عن الشعبي قال: لا بأس أن يشتري السيف المحلى (بالدراهم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ دراہم کے بدلے زیور سے آراستہ تلوار خریدنے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٣٨٧ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الحسن قال: لا بأس أن ⦗٢٩٧⦘ يشتري السيف المفضض (بالتأخير) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ چاندی چڑھی تلوار تاخیری ادائیگی کے ساتھ خریدنے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٣٨٨ - حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔
٢١٣٨٩ - حدثنا وكيع عن محمد بن عبد اللَّه عن أبي قلابة عن أنس قال: أتانا كتاب عمر ونحن بأرض فارس أن لا تبيعوا (السيوف) (١) فيها حلقة فضة (بالدراهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ارض فارس میں تھے۔ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا جس میں لکھا تھا کہ جس تلوار کا حلقہ چاندی کا ہو اسے دراہم کے بدلے مت بیچو۔
٢١٣٩٠ - حدثنا ابن مبارك عن سعيد بن (يزيد) (١) قال: سمعت خالد بن أبي عمران يحدث عن (حنش) (٢) عن فضالة بن عبيد قال: أُتي (النبي) (٣) ﷺ يوم (خيبر) (٤) بقلادة فيها خرز معلقة بذهب ابتاعها رجل بتسعة دنانير أو (بسبعة) (٥) فأتى النبي ﷺ فذكر ذلك له، فقال: (٦) لا، حتى (تميز) (٧) (ما) (٨) بينهما فقال: إنما أردت الحجارة. قال: لا، حتى (تميز ما) (٩) بينهما. (قال: فرده حتى ميز ما بينهما) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں حضور ﷺ کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں پتھروں کے ساتھ سونا لگا ہوا تھا۔ ایک آدمی نے اسے نو یا سات دینار کا خریدا۔ جب وہ حضور ﷺ کے اپس آیا اور ساری بات عرض کی، تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے لیے اسے خریدنا اس وقت تک درست نہیں جب تک فرق نہ کرلو۔ اس نے کہا کہ میں نے تو پتھروں کا ارادہ کیا تھا۔ حضور ﷺ نے یہ فرمایا کہ یہ بیع اس وقت تک درست نہیں جب تک دونوں کے درمیان فرق نہ کرلو۔ پھر اس آدمی نے دوبارہ واپس کیا اور تمیز کرنے کے بعد خریدا۔
٢١٣٩١ - حدثنا وكيع عن زكريا عن الشعبي قال: سئل شريح عن قوس ذهب فيه فصوص، قال: (ينزع) (١) الفصوص، ثم (يباع) (٢) الذهب وزنا بوزن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک سونے کی کمان بیچی جائے جس میں نگینے لگے ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نگینے اتار کر سونے کو وزن کے برابر بیچا جائے گا۔
٢١٣٩٢ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا تباع المنطقة المحلاة والسيف المحلى (بنسيئة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سونا چڑھی کسی چیز یا تلوار کو ادھار کے ساتھ نہیں بیچ سکتے۔
٢١٣٩٣ - حدثنا عثمان بن مطر عن هشام عن ابن سيرين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ چاندی چڑھی تلوار، چاندی چڑھی طشتری اور چاندی چڑھے پیالے کو دراہم کے بدلے بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٣٩٤ - وعن سعيد عن قتادة أنهما لم يريا بأسًا بشراء المفضض، والخوان المفضض والقدح (المفضض) (١) (بالدراهم) (٢).
٢١٣٩٥ - (حدثنا عبد الأعلى) (١) بن عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان يكره أن يشتري السيف المحلى بفضة (٢) يقول: (اشتره) (٣) بالذهب يدا بيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری زیور چڑھی تلوار کی بیع کو چاندی کے بدلے مکروہ قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ سونے کو برابر سرابر خریدو۔
٢١٣٩٦ - حدثنا ابن مهدي عن سعيد بن عبد الرحمن قال: سألت (سليمان) (١) ابن موسى عن السيف المحلى بالفضة فقال: لا بأس به،
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عبدا لرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن موسیٰ سے زیور چڑھی تلوار کی بیع کو چاندی کے بدلے کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور حضرت مکحول نے فرمایا کہ باندی کو بھی تو زیور کے ساتھ ہی فروخت کیا جاتا ہے۔
٢١٣٩٨ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت حمادًا عن السيف (المحلى) (١) يباع بالدرهم فقال: لا بأس به،
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے زیور چڑھی تلوار کی بیع چاندی کے بدلے کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور حضرت حکم نے فرمایا کہ اگر دراہم زیور سے زیادہ ہوں تو کچھ حرج نہیں۔
٢١٤٠٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمارة بن أبي حفصة عن المغيرة بن (حنين) (١) قال: (سئل علي) (٢) عن جامات (من) (٣) ذهب (مخلوطات) (٤) بفضة؛ أتباعُ بالفضة؟ قال: فقال هكذا برأسه، أي لا (بأس) (٥) به (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن حنین فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایسی چیز جس میں سونا اور چاندی ہو کیا اسے صرف چاندی کے بدلے فروخت کیا جاسکتا ہے انہوں نے سر کے اشارے سے اس کی اجازت دی۔
٢١٤٠١ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن أيوب أن محمدًا كان يكره شراء السيف المحلى إلا بعرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے زیور چڑھی تلوار کی بیع کو صرف عرض (نقدین کے علاوہ پر چیز) کے ساتھ جائز قرار دیا ہے۔
٢١٤٠٢ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم أنه كان لا يرى بأسا إذا كان الثمن أكثر من الحلية، ويكرهه إذا كان الثمن أقل من الحلية.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ثمن زیور سے زیادہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر کم ہو تو مکروہ ہے۔
٢١٤٠٣ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن سعيد بن (أبي عروبة) (١) (وغيره) (٢) أن ⦗٣٠٠⦘ الحسن كان لا يرى (بأسا) (٣) باشتراء السيف المحلى (والخاتم) (٤) بالدرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن زیور چڑھی تلوار اور انگوٹھی کی بیع دراہم کے بدلے کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٢١٤٠٤ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن يزيد الدالاني عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: كنا نبيع السيف المحلى بالفضة و (نشتريه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ ہم زیور چڑھی تلوار کو چاندی کے بدلے خریدا اور بیچا کرتے تھے۔
٢١٤٠٥ - حدثنا وكيع عن (إسرائيل) (١) عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لا بأس (ببيع) (٢) السيف المحلى (بالدراهم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زیور چڑھی تلوار کو دراہم کے بدلے بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔