کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس مکاتب کا بیان جس کا مولی یہ شرط لگا دے کہ وہ نہ تو اس شہر سے نکلے گا نہ شادی کرے گا
٢١٣٧٥ - حدثنا هشيم (عن) (١) يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا اشترط على (مكاتبه) (٢) ألا يخرج ولا يتزوج، (قال) (٣): فشرطه باطل، يسير حيث (شاء) (٤) ويتزوج.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے مکاتب پر یہ شرط لگا لی کہ وہ نہ تو اس شہر سے نکلے گا اور نہ ہی شادی کرے گا تو یہ شرط باطل ہے۔ وہ جہاں چاہے جاسکتا ہے اور شادی بھی کرسکتا ہے۔
٢١٣٧٦ - حدثنا هشيم عن عبيدة عن إبراهيم قال: إنكم تشترطون على ⦗٢٩٥⦘ المكاتب شروطا لا تحل، (يشترط) (١) عليه ألا يخرج ولا يتزوج، قال: يخرج ويتزوج.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ تم مکاتب پر ایسی شرطیں لگاتے ہو جو تمہارے لیے درست نہیں ، تم شرط لگاتے ہو کہ وہ شہر سے باہر نہ جائے اور شادی نہ کرے۔ وہ شہر سے باہر جاسکتا ہے اور شادی بھی کرسکتا ہے۔
٢١٣٧٧ - حدثنا هشيم عن إسماعيل عن الشعبي مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے بھی یونہی منقول ہے۔
٢١٣٧٨ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: لأهل (المكاتب) (١) (ما) (٢) اشترطوا عليه ولهم ما أخذوا منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ کاتب غلام کے مالکوں کو وہ ملے گا جس کی انہوں نے شرط لگائی اور جو انہوں نے لیا وہ ان کا ہوگیا۔
٢١٣٧٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الجهم عن سعيد بن جبير قال: (يخرج) (١) إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو جاسکتا ہے۔
٢١٣٨٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي في رجل اشترط على مكاتبه أن لا يخرج، قال: يخرج،
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر ایک آد می نے شرط لگائی کہ مکاتب شہر سے باہر نہیں نکل سکتا۔ تو یہ شرط درست نہیں وہ نکل سکتا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ وہ مولی کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتا۔
٢١٣٨٢ - حدثنا أبو بحر البكراوي عن محمد بن أبي يحيى قال: أخبرتني أمي أن جدها كان مكاتبًا لعبد اللَّه بن قيس الأسلمي فأراد الخروج إلى البصرة فمنعه (فأتى) (١) عثمان فقال: ليس لك أن تمنعه، (فخلى) (٢) عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے بتایا کہ ان کے دادا عبدا للہ بن قیس اسلمی کے مکاتب تھے۔ انہوں نے بصرہ جانے کا ارادہ کیا تو عبد اللہ بن قیس نے منع کردیا۔ میرے دادا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم اسے منع نہیں کرسکتے۔ لہٰذا انہیں جانے دیا گیا۔
٢١٣٨٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر في الرجل يشترط على مكاتبه أن لا (يخرج) (١) ولا يتزوج، قال: يتزوج (ويخرج) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے مکاتب پر شرط لگائی کہ وہ شہر سے باہر نہیں جاسکتا اور شادی نہیں کرسکتا تو یہ شرط قابل قبول نہیں ۔
٢١٣٨٤ - حدثنا حفص عن أشعث، عن الحكم وحماد، عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يشترطوا على المكاتب ما يضر به: أن لا يخرج من المصر ولا يتزوج.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف مکاتب پر ایسی شرطوں کے لگانے کو مکروہ قرار دیتے تھے جس سے اس کا نقصان ہو کہ وہ شہر سے باہر نہیں جاسکتا اور شادی نہیں کرسکتا۔