١٧٢٩٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن إسحاق عن خالد بن كثير عن الضحاك عن علي قال: يؤجل سنة، فإن وصل وإلا فرق بينهما، فالتمسا من فضل اللَّه يعني العنين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ پھر وہ دونوں اللہ کا فضل تلاش کریں۔
١٧٢٩٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الركين عن أبيه وحصين (بن) (١) قبيصة عن عبد اللَّه أنه قال: يؤجل العنين سنة فإن جامع وإلا فرق بينهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
١٧٢٩٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الركين عن أبي حنظلة (النعمان) (١) عن المغيرة بن شعبة أنه أجل العنين سنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ نے نامرد کو ایک سال کی مہلت دلوائی۔
١٧٣٠٠ - (حدثنا) (١) حفص عن أشعث عن الحسن عن عمر قال: يؤجل العنين سنة، فإن وصل إليها وإلا فرق بينهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
١٧٣٠١ - [حدثنا هشيم عن محمد بن سالم عن الشعبي أن عمر بن الخطاب كتب إلى شريح أن يؤجل العنين سنة من يوم يرفع إليه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت شریح کو خط میں لکھا کہ نامرد کو اس دن سے ایک سال کی مہلت دی جائے گی جب سے اس کا مقدمہ قاضی کے پاس پیش ہوا۔
١٧٣٠٢ - حدثنا هشيم عن المغيرة عن الشعبي أن الحارث بن عبد اللَّه بن أبي ربيعة أجل (رجلًا) (١) عشرة أشهر لم يصل إلى أهله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت حارث بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ نے اس شخص کو دس مہینے کی مہلت دی جو اپنی بیوی سے جماع کرنے کے قابل نہ تھا۔
١٧٣٠٣ - حدثنا جرير عن (منصور عن إبراهيم) (١) قال: إذا لم يصل الرجل إلى امرأته أجل (سنة أو) (٢) عشرة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی بیوی سے جماع کرنے کے قابل نہ ہو اسے علاج کے لیے ایک سال یا دس مہینے کی مہلت دی جائے گی۔
١٧٣٠٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نامرد کو اس دن سے مہلت دی جائے گی جب سے اس کا فیصلہ سلطان کی مجلس میں پیش ہوا۔ حسن فرماتے ہیں کہ اسے ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ ابراہیم فرماتے ہیں کہ مجھے وقت تو یاد نہیں البتہ اسے اس دن سے مہلت دی جائے گی جس دن اس کا مقدمہ قاضی کی عدالت میں پیش ہوا۔
١٧٣٠٥ - وعن مغيرة عن إبراهيم (قالا) (١): يؤجل العنين من يوم يرفع إلى السلطان قال يونس عن الحسن: يؤجل سنة، وقال (مغيرة) (٢) عن إبراهيم: لا أحفظ الوقت (و) (٣) لكنه يؤجل من يوم يرفع إلى السلطان.
١٧٣٠٦ - حدثنا شريك عن جابر عن عامر أنه كان يقول (بقول) (١) أصحاب محمد ﷺ (٢): يؤجل العنين سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فرمایا کرتے تھے کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔
١٧٣٠٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عبد الملك عن عطاء قال: يؤجل العنين سنة فإن وصل إليها وإلا فرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
١٧٣٠٨ - [حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن ابن المسيب قال: يؤجل العنين والذي يؤخذ عن امرأته سنة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس دن مقدمہ عدالت میں پیش ہوا اس دن سے ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔
١٧٣٠٩ - حدثنا أبو خالد عن ابن جريج عن عطاء قال: (يستقبل) (١) بها من يوم تخاصمه سنة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔
١٧٣١٠ - حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: يؤجل العنين سنة (فإن) (١) وصل إليها وإلا فرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
١٧٣١١ - حدثنا هشيم عن يحيى بن سعيد عن بعض أشياخهم أن أبا حليمة معاذ القاري تزوج ابنة (حارثة) (١) بن النعمان الأنصاري فلم يصل ⦗٣٠٤⦘ إليها فاجله عمر سنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید اپنے ایک شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ ابو حلیمہ معاذ القاری نے حارثہ بن نعمان انصاری کی بیٹی سے شادی کی۔ لیکن وہ ان سے جماع کرنے پر قادر نہ ہوسکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک سال کی مہلت دی۔ حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ مجھے عبد الرحمن انصاری نے بتایا کہ جب ایک سال گزر گیا تو دونوں کے درمیان حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جدائی کرادی اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے حارثہ کی بیٹی کا مسئلہ حل کرادیا۔
١٧٣١٢ - قال يحيى: فأخبرني يحيى بن عبد الرحمن الأنصاري أنه حيث حال عليه الحول فرق بينهما وقال: الحمد للَّه الذي كف على (جارية) (١) (ابنته) (٢).
١٧٣١٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن عمر أنه أجل العنين سنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد کو ایک سال کی مہلت دی۔
١٧٣١٤ - حدثنا هشيم عن ابن أبي ليلى عن الشعبي أن عمر بن الخطاب كان يقول: يؤجل سنة، لا أعلمه إلا من يوم يرفع إلى السلطان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ اور میرے خیال میں یہ مہلت اس وقت سے ہوگی جب اس کا مقدمہ قاضی کے پاس آیا۔
١٧٣١٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (نسير) (١) (قال) (٢): كنت عند عبد الملك بن مروان فأتى بعنين فإذا إنسان (ضرير) (٣) فأجله سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نسیر فرماتے ہیں کہ میں عبد الملک بن مروان کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک نابینا نامرد لایا گیا انہوں نے اسے علاج کے لئے ایک سال کی مہلت دی۔
١٧٣١٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (شمر) (١) عن الشعبي قال: يؤجل العنين سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔