کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اونٹ کو کھڑا کر کے نحر کریں گے، اور جو فرماتے ہیں کہ بٹھا کر کریں گے
١٦٣٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة قال: كان أبي ينحر بدنته وهي قائمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد اونٹنی کو کھڑا کر کے نحر فرماتے ۔
١٦٣٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ الصواف سے مراد جو چار ٹانگوں پر کھڑا ہو اور صوافن سے مراد وہ گھوڑا جو تین ٹانگوں پر کھڑا ہو۔
١٦٣٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد عن إسماعيل بن أبي خالد عن إبراهيم قال: كان ابن عمر إذا أراد أن ينحر (بدنة عقلها) (١) فقامت على ثلاث، ثم نحرها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ھدی کا جانور ذبح کرنے کا ارادہ فرماتے تو اس کی کلائی کو ران سے ملا کر باندھتے اور اس کو تین ٹانگوں پر کھڑا کر کے پھر ذبح فرماتے ۔
١٦٣٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن أيمن بن نائل أبي عمران قال: سألت طاوسًا عن قول اللَّه: ﴿صَوَافَّ﴾ قال: تنحر قيامًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایمن بن نابل ابی عمران فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد صواف کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا اونٹ کو کھڑا کر کے ذبح کرنا مراد ہے۔
١٦٣٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد) (١) اللَّه بن موسى عن عثمان عن مجاهد في قوله تعالى: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾ [الحج: ٣٦]، قال: إذا نحرها قيامًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمْ فِیْھَا خَیْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْھَا صَوَآفَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اونٹ کو کھڑا کر کے ذبح کیا جائے گا۔
١٦٣٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن نافع (بن عمر عن عمرو) (١) بن دينار قال: رأيت ابن عمر بعد ما كبُر ينحرها باركة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما عمر رسیدہ ہونے کے بعد اونٹ کو بٹھا کر ذبح کرتے تھے۔
١٦٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: إن شاء قيامًا وإن شاء باركة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو کھڑا کر کے ذبح کرلو اور اگر چاہو تو بٹھا کر ذبح کرلو۔
١٦٣٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أفلح عن القاسم أنه نحرها وهي قائمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم نے اونٹ کو کھڑا کر کے ذبح فرمایا۔
١٦٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) خالد عن ابن جريج عن (ابن) (٢) أبي مليكة عن ابن عباس (في آية) (٣): ﴿فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾ قال: قيام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد با ری تعالیٰ { فَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْھَا صَوَآفَّ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ کھڑا کر کے ذبح کیا جائے گا۔
١٦٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد (١) عن أشعث عن من يذكر عن ابن عباس قال (٢): رأى رجلًا ينحر بدنته باركة: (فقال) (٣): قيامًا سنة محمد ﷺ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا جو اونٹ کو بٹھا کر ذبح کر رہا تھا آپ نے فرمایا اس کو کھڑا کر کے ذبح کرو یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔
١٦٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (فقال) (١): حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عطاء أن ابن عمر كان ينحرها شابًا قيامًا، فلما كبر نحرها وهي باركة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب جوان تھے تو اونٹ کو کھڑا کر کے ذبح فرماتے جب آپ عمر رسیدہ ہوگئے تو اس کو بٹھا کر ذبح فرماتے ۔
١٦٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: ينحرها وهي باركة (١)، أهون عليها وعلى من ينحرها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اونٹ کو بٹھا کر ذبح کرنے میں اونٹ کے لیے بھی آسانی ہے اور ذبح کرنے والے کے لیے بھی آسانی ہے۔
١٦٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن [زياد بن جبير أن ابن عمر أتى على رجل قد أناخ بدنته فقال: انحرها قيامًا سنة محمد ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے جو اونٹ کو بٹھا کر ذبح کر رہا تھا آپ نے فرمایا اس کو کھڑا کر کے ذبح کرو یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔
١٦٣٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن] (١) زياد بن جبير عن ابن عمر أنه نحو ثلاث بدن له قيامًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے تین اونٹ کھڑا کر کے ذبح فرمائے۔
١٦٣٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال حدثنا (ورقاء) (١) عن عمرو بن دينار قال: رأيت ابن الزبير ينحرها وهي قيام معقولة إحدى يديها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر کو دیکھا وہ اونٹ کو کھڑا کر کے اس کا ایک ہاتھ باندھ کر اس کو ذبح فرما رہے تھے۔