کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد {لِیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ} کی تفسیر کا بیان
١٦٣٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: الحلق وأخذ (من) (١) الشوارب وتقليم الأظفار ونتف الأبط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حلق کروانا ‘ مونچھیں کاٹنا ‘ ناخن کاٹنا اور بغلوں کے بال کاٹنا مراد ہے۔
١٦٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا العكلي عن موسى بن عقبة عن محمد بن كعب القرظي قال: التفت: حلق العانة ونتف الأبط وأخذ من الشارب وتقليم الأظفار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب القرظی فرماتے ہیں کہ محرم حلال ہونے کے بعد حلق کروائے گا، بغلوں کے بال کاٹے گا، مونچھیں کاٹے گا اور ناخن کاٹے گا۔
١٦٣٩٧ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو خالد (عن حجاج) (١) عن عطاء قال: الحلق والذبح وتقليم الأظفار ومناسك الحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حلق کروانا، قربانی ذبح کرنا، ناخن کاٹنا اور مناسک حج ادا کرنا۔
١٦٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن أشعث عن نافع عن ابن عمر قال: ما عليهم في المناسك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو اس کے ذمہ مناسک حج ہیں وہ مراد ہیں۔
١٦٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن خالد عن عكرمة قال: الشعر والظفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ بال اور ناخن کاٹنا مراد ہے۔
١٦٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء عن ابن عباس قال: التفث: الرمي والذبح والحلق و (التقصير) (١) والأخذ من الشارب والأظفار (واللحية) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ التفث سے مراد رمی، قربانی، حلق، بال چھوٹے کروانا اور مونچھیں، ناخن اور داڑھی کے بال کم کرنا ہے۔