کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جنین کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی
١١٩٣١ - حدثنا وكيع عن سعيد بن عبيد اللَّه عن زياد بن جبير عن أبيه عن المغيرة بن شعبة أن رسول اللَّه ﷺ قال: "الطفل يصلَّى عليه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
١١٩٣٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع (أن) (١) ابن عمر صلى على (السقط) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جنین کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم وہ (بوقت پیدائش) زندہ تھا کہ مردہ ؟
١١٩٣٤ - [حدثنا عبدة بن سليمان عن (ابن) (١) أبي عروبة عن قتادة عن سعيد ابن المسيب عن أبي بكر قال: (٢) أحق من صلينا عليه أطفالنا] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بکر فرماتے ہیں کہ جن کی نماز جنازہ ہم ادا کرتے ہیں ان میں سب سے زیادہ حق دار ہمارے بچے ہیں۔
١١٩٣٥ - حدثنا عبدة (بن سليمان) (١) (عن) (٢) ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب (٣) قال: إذا تم خلقه ونفخ فيه الروح صلِّيَّ عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں جب بچے کی خلقت مکمل ہوجائے اور اس میں روح پھونک دی جائے تو اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
١١٩٣٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد (عن سعيد) (١) عن أبي هريرة أنه كان يقوم على (المنفوس) (٢) من ولده الذي لم يعمل خطيئة فيقول: اللهم أجره من عذاب القبر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابوھریرہ نے نو زائیدہ بچے کی نماز جنازہ پڑھائی جس نے کوئی گناہ نہ کیا تھا، (اس میں دعا مانگتے ہوئے فرمایا) اے اللہ ! اس کو عذاب قبر سے محفوظ فرما۔
١١٩٣٧ - حدثنا (عبد الوهاب) (١) الثقفي عن أيوب عن محمد بن سيرين في السقط إن استوى خلقه سمي وصلي عليه كما يصلى على الكبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب جنین کی خلقت مکمل ہوجائے تو اس کا نام بھی رکھا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ ابھی ادا کی جائے گی جس طرح بڑے کی کرتے ہیں۔
١١٩٣٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): ثنا ابن علية عن يونس عن زياد بن جبير عن أبيه عن الغيرة بن شعبة قال: السقط يصلى عليه (٢) يدعى لأبويه بالمغفرة والرحمة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ جنین کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی، جس میں اس کے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے۔ ایک راوی یونس فرماتے ہیں اھل زیاد نے اس کو مرفوعا نقل فرمایا ہے، لیکن میں نے اس کو اس طرح محفوظ نہیں کیا۔
١١٩٤٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: ما (ندع) (١) أحدًا من أولادنا إلا صلينا عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں ہم نے اپنی اولاد میں سے کسی کو نماز جنازہ پڑھائے بغیر نہیں چھوڑا، (دفن نہیں کیا) ۔
١١٩٤١ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن ابن سيرين قال: يصلّى على الصغير كما يصلَّى على الكبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں بڑے کی طرح بچے کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔
١١٩٤٢ - حدثنا معاذ بن يزيد (١) عن أبي العلاء عن منصور عن ابن سيرين قال: (يصلّى) (٢) على السقط (ويسميه) (٣) فإنه ولد على الفطرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جنین کی نماز جنازہ پڑھو اور اس کا نام رکھو کیونکہ وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوا ہے۔
١١٩٤٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سألت ابن أبي ليلى فقال: أدركت بقايا الأنصار يصلون على الصبي من صبيانهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے انصار کو پایا کہ وہ اپنے بچوں کی نماز جنازہ ادا کرتے تھے۔
١١٩٤٤ - حدثنا ابن علية عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب في السقط إذا وقع ميتًا قال: إذا نفخ فيه الروح صلي عليه وذلك لأربعة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب اس جنین کے بارے میں کہ جو مردہ ہی پیدا ہوا ہو فرماتے کہ جب اس میں روح پھونکی جا چکی ہو تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور یہ روح چار ماہ میں پھونکی جاتی ہے۔
١١٩٤٥ - حدثنا أحمد بن إسحاق قال: ثنا عبد الواحد بن (زياد) (١) قال: ثنا عاصم الأحول عن خالد الأحدب قال: سئل ابن عمر عن الصلاة على الأطفال قال: لأن أصلي على من لا ذنب له أحب إليّ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد الاحدب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بچوں کی نماز جنازہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا جس کا کوئی گناہ نہیں اس کی نماز جنازہ پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے۔