کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بعض حضرات نے عورتوں کا جنازہ کے ساتھ نکلنے کو ناپسند کیا ہے
١١٦٢٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن (زبيد) (١) عن مسروق قال: خرج رسول اللَّه ﷺ مع جنازة (و) (٢) معها امرأة فلم يبرح حتى توارت (بالبيوت) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی جنازہ کے لیے نکلے جس میں عورتیں بھی تھیں تو آپ اس وقت تک نہ ٹلے کہ جب تک عورتیں گھروں کو نہ چلی گئیں۔
١١٦٢١ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج (عن) (١) فضيل عن ابن ⦗٥٥٣⦘ (معقل) (٢) قال: قال عمر: لا (تتبعني) (٣) امرأة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں (میرے جنازے) کے پیچھے عورتیں نہ آئیں۔
١١٦٢٢ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا إذا أخرجوا (الجنازة) (١) أغلقوا الباب على النساء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں کہ (صحابہ کرام ) جب جنازے کے لیے نکلتے تو عورتوں پر دروازہ بند کردیتے۔
١١٦٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مثنى بن سعيد عن محمد بن المختشر قال: كان مسروق لا يصلي على جنازة معها امرأة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن المنتشر فرماتے ہیں کہ جس جنازے کے ساتھ عورتیں ہوتی حضرت مسروق اس کا جنازہ نہ پڑھتے۔
١١٦٢٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن أشعث عن موسى بن (عبد اللَّه) (١) بن (يزيد) (٢) قال: كان أبي إذا كانت دار فيها جنازة أمر بالباب ففتح فدخل العُوَّاد، فإذا (خرج) (٣) بالجنازة أمر بباب الدار فأغلق، فلا تتبعها (امرأة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عبد اللہ بن یزید فرماتے ہیں کہ جب میرے والد صاحب کسی گھر میں ہوتے جس میں جنازہ ہوتا تو حکم دیتے دروازے (والے کو) تو وہ کھول دیا جاتا اور سارنگی والے داخل ہوجاتے، جب جنازہ لے کر نکلا جاتا تو گھر کے دروازے (والوں کو) حکم دیتے تو وہ بند کردیئے جاتے۔ پس عورتیں جنازہ کے ساتھ نہ آتیں۔
١١٦٢٥ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر قال: نهينا أن نتبع جنازة معها (رانة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمیں اس جنازے کے ساتھ چلنے سے روکا گیا ہے جس میں زور سے رونے کی آواز ہو۔
١١٦٢٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن ومحمد قال: كانا يكرهان أن تتبع (النساء الجنائز) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
١١٦٢٧ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى قال: أخبرنا الحسن بن صالح عن إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد قال: لا ينبغي (للمرأة) (٢) أن تخرج من باب الدار مع الجنازة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید ارشاد فرماتے ہیں کہ عورت کا گھر کے دروازے سے جنازے کے ساتھ نکلنا مناسب نہیں ہے۔
١١٦٢٨ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: حدثنا معاوية بن صالح قال: (نا) (٢) عمرو بن قيس قال: كنا في جنازة وفيها (أبو أمامة) (٣) فرأى نسوة في الجنازة (فطردهن) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن قیس فرماتے ہیں ہم ایک جنازے میں تھے اور اس جنازے میں حضرت ابو امامہ بھی تھے، آپ اس جنازے میں ایک عورت دیکھی تو اس کو دور کردیا۔
١١٦٢٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن) (١) (عبد اللَّه) (٢) بن مرة عن مسروق قال: رأيته يحثو التراب في وجوه النساء في الجنازة و (يقول) (٣) لهن: ارجعن فإن رجعن مضى مع الجنازة وإلا رجع وتركها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسروق کو دیکھا وہ جنازہ میں عورتوں کے چہروں پر مٹی پھینکتے تھے اور ان کو کہتے تھے واپس لوٹ جاؤ۔ اگر وہ لوٹ جاتیں تو جنازہ میں شرکت کرتے ورنہ واپس ہوجاتے اور جنازہ میں شرکت نہ کرتے۔
١١٦٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن حفصة عن أم عطية قالت: نهينا عن اتباع الجنائز ولم يعزم علينا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ ہمیں جنازے کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا ہے اور یہ ہم پر لازم اور ضروری نہیں ہے۔