٤٩٨٠ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا هشيم قال: أخبرنا (١) مغيرة عن إبراهيم أنه لم يكن يرى بعدد الآي في الصلاة بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نماز کے اندر آیتیں گننے کو جائز کہتے ہیں۔
٤٩٨١ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بھی یونہی فرماتے ہیں۔
٤٩٨٢ - [حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو أنه كان لا يرى بأسا بعدد الآي في الصلاة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیر بن عمرو نماز کے اندر آیتیں گننے کو جائز کہتے ہیں۔
٤٩٨٣ - [حدثنا عبده ووكيع عن هشام أن أباه كان يعد الآي في الصلاة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نماز کے اندر آیتیں گنا کرتے تھے۔
٤٩٨٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش قال: كان يحيى بن وثاب يعد الآي في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن وثاب نماز کے اندر آیتیں گنا کرتے تھے۔
٤٩٨٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: رأيت طاوسا ونافعا يعدان الآي في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس اور حضرت نافع نماز کے اندر آیتیں گنا کرتے تھے۔
٤٩٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن خالد عن ابن سيرين أنه كان يعد الآي بشماله في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین نماز کے اندر بائیں ہاتھ سے آیتیں گنا کرتے تھے۔
٤٩٨٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: لا بأس بعد الآي في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نماز کے اندر آیتیں گننے کو جائز کہتے ہیں۔
٤٩٨٨ - [حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن يحيى بن عتيق عن سعيد بن جبير أنه كان يعد الآي في الصلاة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر نماز کے اندر آیتیں گنا کرتے تھے۔
٤٩٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب قال: رأيت أبا عبد الرحمن يعد الآي في الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن نماز کے اندر آیتیں گنا کرتے تھے۔
٤٩٩٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن عبد الملك قال: رأيت ابن أبي مليكة يَعدُّ الآي في الصلاة، فقلت له، فقال: (إنه) (١) أحفظ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن عبد الملک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی ملیکہ کو نماز میں آیتیں گنتے دیکھا تو اس بارے میں ان سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ عمل زیادہ یاد رکھوانے والا ہے۔
٤٩٩١ - حدثنا وكيع عن حماد بن زيد عن يحيى بن عتيق قال: رأيت طاوسا والغيرة بن حكيم الصنعاني يعدان الآي في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس اور حضرت مغیرہ بن حکیم نماز کے اندر آیتیں گنا کرتے تھے۔
٤٩٩٢ - حدثنا أبو أيوب (القريعي) (١) قال: رأيت (عمران) (٢) بن (حدير) (٣) (يعدُّ) (٤) (الآي) (٥) في الصلاة ذكر أن أبا مجلز (كان) (٦) لا يرى بذلك بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر نماز کے اندر آیتیں گنا کرتے تھے۔ حضرت ابو مجلز بھی اس کو جائز بتاتے تھے۔
٤٩٩٣ - حدثنا حفص عن عمرو عن الحسن قال: لا بأس أن (يَعدُّ) (١) الآي في الصلاة إذا خاف النسيان.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر بھول جانے کا اندیشہ ہو تو نماز کے اندر آیتیں گننا جائز ہے۔
٤٩٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ربيع قال: رأيت ابن سيرين يعد الآي في العصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع کہتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین عصر کی نماز کے اندر آیتیں گنا کرتے تھے۔
٤٩٩٥ - حدثنا وكيع عن حريث عن الشعبي قال: لا بأس بعد الآي في الفريضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ فرض نماز کے اندر آیتیں گننا جائز ہے۔
٤٩٩٦ - حدثنا يحيى بن بشير الجزري عن ابن جريج عن عطاء قال: لا بأس بعد الآي في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نماز کے اندر آیتیں گننا جائز ہے۔
٤٩٩٧ - حدثنا أبو أسامة (عن) (١) (نافع) (٢) بن عمر قال: رأيت ابن أبي مليكة يعد الآي في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی ملیکہ کو نماز میں آیتیں گنتے دیکھا ہے۔ حضرت یحییٰ بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ یہ عبادت کی جان ہے۔