کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: وہ خواتین جو کنیتوں سے معروف ہیں اور جن کے اصل نام ہم تک نہیں پہنچے، صحابیات میں سے تھیں؛ انہی میں سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ، بھی شامل ہیں — سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ، ثنا أَبُو ظِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: كَانَتْ لِي شَاةٌ فَجَمَعْتُ مِنْ سَمْنِهَا عُكَّةً، فَبُعِثَ بِهَا مَعَ زَيْنَبَ فَقُلْتُ: يَا زَيْنَبُ، أَبْلِغِي هَذِهِ الْعُكَّةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَدِمُ بِهَا، قَالَ: فَجَاءَتْ زَيْنَبُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا سَمْنٌ بَعَثَتْهُ إِلَيْكَ أُمُّ سُلَيْمٍ. فَقَالَ: أَفْرِغُوا لَهَا عُكَّتَهَا، فَفُرِّغَتِ الْعُكَّةُ، وَدُفِعَتْ إِلَيْهَا، فَجَاءَتْ وَأُمُّ سُلَيْمٍ لَيْسَتْ فِي الْبَيْتِ، فَعَلِّقْتُ الْعُكَّةَ عَلَى وَتَدٍ، فَجَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَرَأَتِ الْعُكَّةَ مُمْتَلِئَةً تَقْطُرُ سَمْنًا، فَقَالَتْ: يَا زَيْنَبُ أَلَيْسَ أَمَرْتُكِ أَنْ تَبْلُغِي هَذِهِ الْعُكَّةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَدِمُ بِهَا؟ قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقِينِي، فَتَعَالَيْ مَعِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَزَيْنَبُ مَعَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي بَعَثْتُ إِلَيْكَ مَعَهَا بِعُكَّةٍ فِيهَا سَمْنٌ، فَقَالَ: «قَدْ جَاءَتْ بِهَا» ، فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ إِنَّهَا مُمْتَلِئَةٌ سَمْنًا تَقْطُرُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَعْجَبِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَنَّ اللهَ أَطْعَمَكِ»
ترجمہ
… میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو۔ چنانچہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور زینب دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئیں، تو انہوں نے کہا: میں نے اس کے ساتھ آپ کی طرف گھی کی ایک مشک بھیجی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لے آئی ہے۔“ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، وہ تو گھی سے بھری ہوئی ٹپک رہی ہے! نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلیم! کیا تمہیں تعجب ہے کہ اللہ نے تمہیں کھلایا؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّ سَايِقًا كَانَ يَسُوقُ بِهَا فِي نِسْوَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ كَذَا سَوْقُكَ بِالْقَوَارِيرِ»
ترجمہ
… سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک ہانکنے والا، جسے انجشہ کہا جاتا تھا، انہیں اور دیگر عورتوں کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ لے جا رہا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”آہستہ چلو، اے انجشہ! نازک عورتوں کو اس طرح مت ہانکو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ التَّمِيمِيُّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: كُنْتُ فِي بَعْضِ حُجَرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عِنْدَهُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ: «اصْبِرْ فَوَاللهِ مَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ شَيْءٌ مُنْذُ سَبْعٍ، وَلَا أُوَقِدَ تَحْتَ بُرْمَةٍ لَهُمْ مُنْذُ ثَلَاثٍ، وَاللهِ لَوْ سَأَلْتُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَ جِبَالَ تِهَامَةَ كُلَّهَا ذَهَبًا لَفَعَلَ»
ترجمہ
… سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی ازواج کے کچھ حجروں میں سے ایک میں تھی، اور آپ ﷺ وہاں موجود تھے، کہ ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور اپنی ضرورت کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر کرو، اللہ کی قسم! آلِ محمد کے پاس سات دن سے کچھ نہیں، اور تین دن سے ان کے لیے کسی ہانڈی کے نیچے آگ نہیں جلائی گئی۔ اللہ کی قسم! اگر میں اللہ سے سوال کروں کہ وہ تہامہ کے تمام پہاڑوں کو سونا بنا دے تو وہ ضرور ایسا کر دے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ الْقَسْمَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ چھوٹے مصلے (خُمرہ) پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّ: " النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا، فَتَبْسُطُ لَهُ نِطَعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ، فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ وَالْقَوَارِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا؟ قَالَتْ: عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَة "
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لاتے اور قیلولہ فرماتے، وہ آپ ﷺ کے لیے ایک چمڑے کا فرش بچھا دیتیں، آپ ﷺ اس پر آرام فرماتے، اور آپ ﷺ کو بہت پسینہ آتا تھا، تو وہ آپ ﷺ کا پسینہ جمع کر کے خوشبو اور شیشیوں میں ڈال دیتیں۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ کا پسینہ، جسے ہم خوشبو میں ملاتے ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ چھوٹے مصلے پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِهَا عَلَى الْخُمْرَة»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں چھوٹے مصلے پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَة»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ چھوٹے مصلے پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَهُمْ يَوْمًا، فَدَعَا لِي حَتَّى مَا أُبَالِي أَنْ يَزِيدَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ لِي مِنْ أَهْلِي مَنْ لَهُ عِنْدِي خَاصَّةٌ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَدْعُوَ لَهَا بِخَاصَّتِهِ عِنْدِي، قَالَ: «وَمَنْ هُوَ؟» ، قُلْتُ: أَنَسٌ خَادِمُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أُبَالِي أَنْ لَا يَزِيدَ، وَكَانَ فِيمَا دَعَا أَنْ قَالَ: «وَاعْطِهِ مَالًا وَوَلَدًا» . قَالَ أَنَسٌ: فَمَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَصَابَ مِنْ رَخَاءِ الْعَيْشِ اللِّينِ مِثْلَ مَا أَصَبْتُ، وَلَقَدْ دَفَنْتُ بِيَدِي هَاتَيْنِ مِائَةً مِنْ وَلَدِي لَا أَقُولُ سَقْطًا، وَلَا وَلَدَ وَلَدٍ
ترجمہ
… تو آپ ﷺ نے میرے لیے اتنی دعا کی کہ مجھے پروا نہ رہی کہ اس سے زیادہ ہو۔ (انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری والدہ نے کہا:) میں نے آپ ﷺ سے کہا: میرے گھر والوں میں سے ایک ایسا ہے جو میرے نزدیک خاص مقام رکھتا ہے، میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کون ہے؟“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کا خادم انس۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے اتنی دعا کی کہ مجھے پروا نہ رہی کہ اس سے زیادہ نہ بھی ہو، اور آپ ﷺ کی دعا میں یہ بھی تھا: ”اسے مال اور اولاد عطا فرما۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جسے زندگی کی وہ فراوانی اور نرمی نصیب ہوئی ہو جو مجھے نصیب ہوئی، اور میں نے اپنے انہی دونوں ہاتھوں سے اپنی اولاد میں سے سو کو دفن کیا ہے، اور میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ ناتمام پیدا ہوئے تھے یا پوتے پوتیاں تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ "
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے، اپنے بیٹے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے، نبی کریم ﷺ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَغْزُو بِنَا مَعَهُ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَنَسْقِي الْمَرْضَى وَنُدَاوِي الْجَرْحَى»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ ہمیں، انصار کی چند عورتوں کو، اپنے ساتھ جہاد میں لے جایا کرتے تھے، تو ہم بیماروں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کا علاج کرتیں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمُكَ أَنَسٌ، ادْعُ اللهَ لَهُ، فَقَالَ: «اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: آپ کا خادم انس ہے، اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر دے، اور جو کچھ تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ جُنَيْدِ بْنِ أَبِي وَهْرَةَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شَيْبَانُ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ، فَأَرَادُوا أَنْ يُغَسِّلُوهَا، فَلْيَبْدَأُوا بِبَطْنِهَا، فَلْيُمْسَحْ بَطْنُهَا مَسْحًا رَفِيقًا، إِنْ لَمْ تَكُنْ حُبْلَى، فَإِنْ كَانَتْ حُبْلَى، فَلَا تُحَرِّكْنَهَا فَإِنْ أَرَدْتِ غَسْلَهَا، فَابْدَئِي بِسِفْلَيْهَا، فَأَلْقِي عَلَى عَوْرَتِهَا ثَوْبًا سِتِّيرًا، ثُمَّ خُذِي كُرْسُفَةً فَاغْسِلِيهَا فَأَحْسِنِي غَسْلَهَا، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ فَامْسَحِيهَا بِكُرْسُفٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَحْسِنِي مَسْحَهَا قَبْلَ أَنْ تُوَضِّئِيهَا، ثُمَّ وَضِّئِيهَا بِمَاءٍ فِيهِ سِدْرٌ، وَلْتَفْرُغِ الْمَاءَ امْرَأَةٌ وَهِيَ قَائِمَةٌ لَا تَلِي شَيْئًا غَيْرَهُ حَتَّى تَنَّقِي بِالسِّدْرِ وَأَنْتِ تَغْسِلِينَ، وَلْيَلِ غُسْلَهَا أَوْلَى النِّسَاءِ بِهَا، وَإِلَّا فَامْرَأَةٌ وَرِعَةٌ، فَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً أَوْ ضَعِيفَةً فَلْتَلِهَا امْرَأَةٌ وَرِعَةٌ مُسْلِمَةٌ، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ غَسْلِ سَفِلَتِها غَسْلًا نَقِيًّا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، فَلْتُوَضِّئْهَا وُضُوءَ الصَّلَاةِ، فَهَذَا بَيَانُ وَضُوئِهَا ثُمَّ اغْسِلِيهَا بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، فَابْدَئِي بِرَأْسِهَا قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، فَأَنْقِي غُسْلَهُ مِنَ السِّدْرِ بِالْمَاءِ، وَلَا تُسَرِّحِي رَأْسَهَا بِمُشْطٍ، فَإِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ بَعْدَ الْغَسَلَاتِ الثَّلَاثِ، فَاجْعَلِيهَا خَمْسًا، فَإِنْ حَدَثَ فِي الْخَامِسَةِ، فَاجْعَلِيهَا سَبْعًا وَكُلُّ ذَلِكَ، فَلْيَكُنْ وِتْرًا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، فَإِنْ كَانَ فِي الْخَامِسَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ، فَاجْعَلِي فِيهِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ وَشَيْئًا مِنْ سِدْرٍ، ثُمَّ اجْعَلِي ذَلِكَ فِي جَرٍّ جَدِيدٍ، ثُمَّ أَقْعِدِيهَا، فَأَفْرِغِي عَلَيْهَا وَابْدَئِي بِرَأْسِهَا حَتَّى تَبْلُغِي رِجْلَيْهَا، فَإِذَا فَرَغْتِ مِنْهَا، فَأَلْقِي عَلَيْهَا ثَوْبًا نَظِيفًا ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ فَانْزِعِيهِ عَنْهَا، ثُمَّ احْشِي سَفِلَتَهَا كُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ وَاحْشِي كُرْسُفَهَا مِنْ طِيبِهَا، ثُمَّ خُذِي سَبِيَّةُ طَوِيلَةً مَغْسُولَةُ، فَارْبِطِيهَا عَلَى عَجُزِهَا كَمَا تُرْبَطُ عَلَى النِّطَاقِ، ثُمَّ اعْقِدِيهَا بَيْنَ فَخِذَيْهَا وَضُمِّي فَخِذَيْهَا، ثُمَّ أَلْقِي طَرَفَ السَّبِيَّةِ عَنْ عَجُزِهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُكْبَتَيْهَا، فَهَذَا شَأْنُ سَفِلَتِهَا ثُمَّ طَيِّبِيهَا وَكَفِّنِيهَا وَاطْوِي شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ أَقْرُنٍ قَصَّةً وَقَرْنَيْنِ وَلَا تُشَبِّهِيهَا بِالرِّجَالِ، وَلْيَكُنْ كَفَنُهَا فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ أَحَدُهَا الْإِزَارُ تَلُفِّي بِهِ، فَخِذَيْهَا وَلَا تَنْفُضِي مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا بِنَوْرَةٍ وَلَا غَيْرِهَا، وَمَا يَسْقُطُ مِنْ شَعْرِهَا، فَاغْسِلِيهِ، ثُمَّ اغْرِزِيهِ فِي شَعْرِ رَأْسِهَا وَطَيِّبِي شَعْرَ رَأْسِهَا، فَأَحْسِنِي تَطْيِيبَهُ وَلَا تُغَسِّلِيهَا بِمَاءٍ مُسَخَّنٍ وَاخْمرِيهَا وَمَا تُكَفِّينِيهَا بِهِ بِسَبْعِ نَبَذَاتٍ إِنْ شِئْتِ وَاجْعَلِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا وِتْرًا وَإِنْ بَدَا لَكِ أَنْ تُخمِرِيهَا فِي نَعْشِهَا، فَاجْعَلِيهِ وِتْرًا هَذَا شَأْنُ كَفَنِهَا وَرَأْسِهَا، وَإِنْ كَانَتْ مَحْدُورَةً أَوْ مَخْصُونَةً أَوْ أَشْبَاهَ ذَلِكَ، فَخُذِي خِرْقَةً وَاحِدَةً وَاغْمِسِيهَا فِي الْمَاءِ وَاجْعَلِي تَتَبَّعِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا، وَلَا تُحَرِّكِيهَا فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَنَفَّسَ مِنْهَا شَيْءٌ لَا يُسْتَطَاعُ رَدُّهُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی عورت فوت ہو جائے اور اسے غسل دینا چاہیں تو سب سے پہلے اس کے پیٹ سے آغاز کریں، اور اگر وہ حاملہ نہ ہو تو اس کے پیٹ پر نرمی سے ہاتھ پھیریں، اور اگر حاملہ ہو تو اسے حرکت نہ دیں۔ اگر تم اسے غسل دینا چاہو تو سب سے پہلے اس کے نچلے حصے سے آغاز کرو، اس کی شرمگاہ پر ایک پردہ ڈال دو، پھر روئی لے کر اسے دھو لو اور اچھی طرح دھو لو، پھر اپنا ہاتھ کپڑے کے نیچے سے داخل کر کے روئی سے تین مرتبہ صاف کرو، وضو کرانے سے پہلے اچھی طرح صاف کرو، پھر اسے بیری کے پانی سے وضو کراؤ، اور پانی ایک عورت کھڑے ہو کر ڈالے جو اس کے سوا کسی اور کام میں نہ لگے، یہاں تک کہ بیری سے صفائی مکمل ہو جائے جبکہ تم غسل دے رہی ہو۔ اور اس کے غسل کی ذمہ داری اس سے سب سے زیادہ حقدار عورت سنبھالے، ورنہ کوئی متقی عورت۔ اگر وہ چھوٹی یا کمزور ہو تو کوئی متقی مسلمان عورت اس کی ذمہ داری لے۔ جب اس کے نچلے حصے کو بیری کے پانی سے اچھی طرح صاف دھو چکو تو اسے نماز کے وضو کی طرح وضو کراؤ — یہ اس کے وضو کی وضاحت ہے۔ پھر اس کے بعد اسے بیری کے پانی سے تین مرتبہ غسل دو، ہر چیز سے پہلے اس کے سر سے آغاز کرو، اسے پانی سے بیری کا اثر صاف کر کے دھو ڈالو، اور اس کے سر میں کنگھی نہ کرو۔ اگر تین غسلوں کے بعد بھی کچھ نکلے تو انہیں پانچ کر دو، اگر پانچویں میں بھی نکلے تو انہیں سات کر دو، اور یہ سب طاق ہی ہونا چاہیے، بیری کے پانی سے۔ اگر پانچویں یا تیسری مرتبہ میں (آخری ہو) تو اس میں کچھ کافور اور کچھ بیری ملا دو۔ پھر یہ ایک نئے برتن میں رکھو، پھر اسے بٹھا کر اس پر پانی بہاؤ، اس کے سر سے شروع کر کے اس کے پیروں تک۔ جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ تو اس پر ایک صاف کپڑا ڈال دو، پھر اپنا ہاتھ کپڑے کے پیچھے سے داخل کر کے پہلا کپڑا اتار دو۔ پھر اس کے نچلے حصے کو جتنی روئی لگا سکو لگاؤ، اور اس روئی کو خوشبو میں بھگو دو۔ پھر ایک لمبی، دھلی ہوئی پٹی لے کر اسے اس کے کولہوں پر باندھو جیسے ازاربند باندھا جاتا ہے، پھر اسے اس کی رانوں کے درمیان سے گزار کر باندھ دو اور اس کی رانوں کو ملا دو، پھر اس پٹی کا کنارہ اس کے کولہوں سے گھٹنوں کے قریب تک ڈال دو — یہ اس کے نچلے حصے کا طریقہ ہے۔ پھر اسے خوشبو لگاؤ اور کفن پہناؤ، اور اس کے بالوں کو تین لٹوں میں باندھو، ایک پیشانی کی اور دو اطراف کی، اور اسے مردوں کے مشابہ مت بناؤ۔ اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہونا چاہیے، ان میں سے ایک ازار ہے جس سے تم اس کی رانوں کو لپیٹو۔ اس کے بالوں سے کچھ بھی نہ جھاڑو، نہ نورہ سے اور نہ کسی اور چیز سے۔ اور اس کے جو بال گر جائیں انہیں دھو کر اس کے سر کے بالوں میں واپس ڈال دو، اور اس کے سر کے بالوں کو خوشبو لگاؤ، اچھی طرح خوشبو لگاؤ۔ اسے گرم پانی سے غسل نہ دو۔ اور اسے اور جس کپڑے سے کفناؤ اسے چاہو تو سات بار لپیٹ دو، اور اس کی ہر چیز طاق رکھو۔ اور اگر تمہیں مناسب لگے کہ اسے اس کے تابوت میں ڈھانپو تو اسے بھی طاق رکھو — یہ اس کے کفن اور سر کا طریقہ ہے۔ اور اگر وہ ابھری ہوئی یا زخمی حالت میں ہو یا اس جیسی کوئی حالت ہو تو ایک ہی کپڑا لے کر اسے پانی میں ڈبو کر اس کے پورے بدن پر پھیرو، اور اسے حرکت نہ دو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اس سے کچھ ایسا نکل آئے جسے واپس روکنا ممکن نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ، فَقُلْتُ: وَاثْنَانِ؟ فَقَالَ: وَاثْنَانِ "
ترجمہ
… سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جس مسلمان میاں بیوی کی تین اولادیں فوت ہو جائیں جو بلوغت کو نہ پہنچی ہوں، تو اللہ اپنی رحمت کے فضل سے انہیں جنت میں داخل کرے گا۔“ میں نے پوچھا: اور دو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور دو بھی۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ أَوْلَادِهِمَا، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان میاں بیوی کی تین اولادیں فوت ہو جائیں جو بلوغت کو نہ پہنچی ہوں، تو اللہ اپنی رحمت کے فضل سے انہیں جنت میں داخل کرے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ زَيْدٍ ابْنِ بِنْتِ أَنَسٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَشَرِبَ مِنْ فَمِهَا، فَقَامَتْ إِلَى فَمِ الْقِرْبَةِ، فَقَطَعَتْهَا»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور وہاں ایک لٹکی ہوئی مشک تھی، آپ ﷺ اس کی طرف اٹھے اور اس کے منہ سے پانی پیا، تو وہ مشک کے منہ کی طرف اٹھیں اور اسے کاٹ لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: «قَرَّبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا مَشْوِيَّةً، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بھنا ہوا دستِ گوشت پیش کیا، آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور وضو نہیں کیا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: " أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَعِنْدَهُ رَهْطٌ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَجَلَسْتُ حَتَّى خَرَجُوا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَنْ أَدَعَ أَمْرًا يُفَقِّهُنِي فِي دِينِي، وَيُقَرِّبُنِي مِنَ اللهِ أَنْ أَسْأَلَ عَنْهُ أَرَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ، الْمَرْأَةُ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، أَتَغْتَسِلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ تَرِبَتِ يَدَاكِ أَنْتِ، لَوْلَا ذَلِكَ مَا أَشْبَهَ الْوَلَدُ أُمَّهَ»
ترجمہ
… رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ پانی (تری) دیکھے تو غسل کرے۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، اے ام سلیم! تم نے عورتوں کو رسوا کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، اگر ایسا نہ ہوتا تو بچہ اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتا؟“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: فِي الْبَيْتِ يُوحَى إِلَيْهِ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَمْكُثَ، ثُمَّ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ»
ترجمہ
… میں نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کہاں ہیں؟ اس نے کہا: گھر میں ہیں، آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر میں جتنی دیر اللہ نے چاہا ٹھہری رہی، پھر میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”اے عائشہ! یہ جبریل علیہ السلام ہیں، وہ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنٌ لِي وَزَوْجِي غَائِبٌ فَقُمْتُ فَسَجَّيْتُهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَدِمَ زَوْجِي فَقُمْتُ فَتَطَيَّبْتُ لَهُ فَوَقَعَ عَلَيَّ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَجَعَلَ يَأْكُلُ فَقُلْتُ: إِلَّا أُعْجِبُكَ مِنْ جِيرَانِنَا؟ قَالَ: وَمَا لَهُمْ؟ قُلْتُ: أُعِيرُوا عَارِيَةً فَلَمَّا طُلِبَتْ مِنْهُمْ جَزَعُوا. قَالَ: بِئْسَ مَا صَنَعُوا، فَقُلْتُ: هَذَا ابْنُكَ، قَالَ: لَا جَرَمَ لَا تَغْلِبِينِي عَلَى الصَّبْرِ اللَّيْلَةَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدًا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي لَيْلَتِهِمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْمَسْجِدِ سَبْعَةً كُلُّهُمْ قَدْ قَرَأُوا الْقُرْآنَ»
ترجمہ
… میں نے کہا: یہ آپ کا بیٹا ہے۔ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، تم آج رات صبر میں مجھ پر غالب نہیں آؤ گی۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور انہیں بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں ان کی اس رات میں برکت دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد ان کی اولاد میں سے سات افراد مسجد میں دیکھے، وہ سب کے سب قرآن پڑھ چکے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، أَنَّهَا «اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَاضَتْ، أَوْ وَلَدَتْ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَتْ»
ترجمہ
سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا، جب انہیں حیض آ گیا یا وہ قربانی کے دن طواف افاضہ کے بعد بچہ جن چکی تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ وہ روانہ ہو گئیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ، حَدَّثَنِي مِرْبَعٌ، عَنْ أُمِّ أَنَسٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي قَالَ: «اهْجُرِي الْمَعَاصِيَ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ وَحَافِظِي عَلَى الْفَرَائِضِ، فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ، وَأَكْثِرِي مِنْ ذِكْرِ اللهِ، فَإِنَّكِ لَا تَأْتِي اللهَ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ كَثْرَة ذِكْرِهِ»
ترجمہ
سیدہ ام انس (ام سلیم) رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نصیحت کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گناہوں کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ سب سے افضل ہجرت ہے، فرائض کی پابندی کرو، کیونکہ یہ سب سے افضل جہاد ہے، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو، کیونکہ تم اللہ کے پاس کوئی ایسی چیز لے کر نہیں آ سکتیں جو اسے اس کے کثرتِ ذکر سے زیادہ محبوب ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ " نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ سَأَلُوا ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ حَاضَتْ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ، فَقَالَ: تَنْفِرُ، فَقَالُوا: مَا نعالْي أَفْتَيْتَنَا أَمْ لَا، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَقُولُ: لَا تَنْفِرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنِّي لَأَقُولُ مَا أَعْلَمُ وَلَا أُبَالِي أَخَذْتُمْ بِهِ أَوْ لَمْ تَأْخُذُوا بِهِ، وَلَكِنْ إِذَا قَدِمْتُمُ الْمَدِينَةَ، فَسَلُوا أُمَّ سُلَيْمٍ وَغَيْرَهَا، فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِصَفِيَّةَ: أَفِي الْخَيْبَةِ أَنْتِ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ذَلِكَ؟» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: صَفِيَّةُ حَاضَتْ، قَالَ: قِيلَ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ: فَلَا إِذًا، قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالُوا: وَجَدْنَا الْحَدِيثَ عَلَى مَا حَدَّثَتْنَا "
ترجمہ
… لیکن جب تم مدینہ پہنچو تو ام سلیم اور دیگر سے پوچھ لینا۔ (راوی کہتی ہیں کہ) میں نے انہیں بتایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا تم محرومی میں ہو؟ تم تو ہمیں روکے ہوئے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا بات ہے؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: صفیہ کو حیض آ گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا کہا گیا کہ اس نے طوافِ افاضہ کر لیا تھا؟ کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر کوئی حرج نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس واپس گئے اور کہا: ہم نے حدیث ویسی ہی پائی جیسی آپ نے ہمیں بتائی تھی۔