المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب من يعرف من النساء بالكنى لمن لم ينته إلينا أسماؤهن ممن لهن صحبة فمنهن أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط امرأة عبد الرحمن بن عوف — ما أسندت أم سليم باب: وہ خواتین جو کنیتوں سے معروف ہیں اور جن کے اصل نام ہم تک نہیں پہنچے، صحابیات میں سے تھیں؛ انہی میں سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ، بھی شامل ہیں — سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ، ثنا أَبُو ظِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: كَانَتْ لِي شَاةٌ فَجَمَعْتُ مِنْ سَمْنِهَا عُكَّةً، فَبُعِثَ بِهَا مَعَ زَيْنَبَ فَقُلْتُ: يَا زَيْنَبُ، أَبْلِغِي هَذِهِ الْعُكَّةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَدِمُ بِهَا، قَالَ: فَجَاءَتْ زَيْنَبُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا سَمْنٌ بَعَثَتْهُ إِلَيْكَ أُمُّ سُلَيْمٍ. فَقَالَ: أَفْرِغُوا لَهَا عُكَّتَهَا، فَفُرِّغَتِ الْعُكَّةُ، وَدُفِعَتْ إِلَيْهَا، فَجَاءَتْ وَأُمُّ سُلَيْمٍ لَيْسَتْ فِي الْبَيْتِ، فَعَلِّقْتُ الْعُكَّةَ عَلَى وَتَدٍ، فَجَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَرَأَتِ الْعُكَّةَ مُمْتَلِئَةً تَقْطُرُ سَمْنًا، فَقَالَتْ: يَا زَيْنَبُ أَلَيْسَ أَمَرْتُكِ أَنْ تَبْلُغِي هَذِهِ الْعُكَّةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَدِمُ بِهَا؟ قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقِينِي، فَتَعَالَيْ مَعِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَزَيْنَبُ مَعَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي بَعَثْتُ إِلَيْكَ مَعَهَا بِعُكَّةٍ فِيهَا سَمْنٌ، فَقَالَ: «قَدْ جَاءَتْ بِهَا» ، فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ إِنَّهَا مُمْتَلِئَةٌ سَمْنًا تَقْطُرُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَعْجَبِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَنَّ اللهَ أَطْعَمَكِ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میری ایک بکری تھی، میں نے اس کے گھی کی ایک مشک جمع کی، پھر اسے زینب کے ہاتھ بھیجا اور کہا: اے زینب! یہ مشک رسول اللہ ﷺ کو پہنچا دو تاکہ وہ اسے سالن کے طور پر استعمال فرمائیں۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ زینب نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: یا رسول اللہ! یہ گھی ہے جو ام سلیم نے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی مشک خالی کر دو۔“ چنانچہ مشک خالی کر کے انہیں واپس دے دی گئی۔ وہ واپس آئیں تو ام سلیم گھر میں نہیں تھیں، تو میں نے مشک ایک کھونٹی پر لٹکا دی۔ پھر ام سلیم آئیں تو دیکھا کہ مشک بھری ہوئی ہے اور اس سے گھی ٹپک رہا ہے، تو انہوں نے کہا: اے زینب! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ یہ مشک رسول اللہ ﷺ کو پہنچا دو تاکہ وہ اسے سالن کے طور پر استعمال کریں؟ زینب نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا ہے، اگر تمہیں یقین نہ آئے تو میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو۔ چنانچہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور زینب دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئیں، تو انہوں نے کہا: میں نے اس کے ساتھ آپ کی طرف گھی کی ایک مشک بھیجی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لے آئی ہے۔“ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، وہ تو گھی سے بھری ہوئی ٹپک رہی ہے! نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلیم! کیا تمہیں تعجب ہے کہ اللہ نے تمہیں کھلایا؟“