حدیث نمبر: 21762
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَهُمْ يَوْمًا، فَدَعَا لِي حَتَّى مَا أُبَالِي أَنْ يَزِيدَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ لِي مِنْ أَهْلِي مَنْ لَهُ عِنْدِي خَاصَّةٌ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَدْعُوَ لَهَا بِخَاصَّتِهِ عِنْدِي، قَالَ: «وَمَنْ هُوَ؟» ، قُلْتُ: أَنَسٌ خَادِمُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أُبَالِي أَنْ لَا يَزِيدَ، وَكَانَ فِيمَا دَعَا أَنْ قَالَ: «وَاعْطِهِ مَالًا وَوَلَدًا» . قَالَ أَنَسٌ: فَمَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَصَابَ مِنْ رَخَاءِ الْعَيْشِ اللِّينِ مِثْلَ مَا أَصَبْتُ، وَلَقَدْ دَفَنْتُ بِيَدِي هَاتَيْنِ مِائَةً مِنْ وَلَدِي لَا أَقُولُ سَقْطًا، وَلَا وَلَدَ وَلَدٍ
ترجمہ

… تو آپ ﷺ نے میرے لیے اتنی دعا کی کہ مجھے پروا نہ رہی کہ اس سے زیادہ ہو۔ (انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری والدہ نے کہا:) میں نے آپ ﷺ سے کہا: میرے گھر والوں میں سے ایک ایسا ہے جو میرے نزدیک خاص مقام رکھتا ہے، میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کون ہے؟“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کا خادم انس۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے اتنی دعا کی کہ مجھے پروا نہ رہی کہ اس سے زیادہ نہ بھی ہو، اور آپ ﷺ کی دعا میں یہ بھی تھا: ”اسے مال اور اولاد عطا فرما۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جسے زندگی کی وہ فراوانی اور نرمی نصیب ہوئی ہو جو مجھے نصیب ہوئی، اور میں نے اپنے انہی دونوں ہاتھوں سے اپنی اولاد میں سے سو کو دفن کیا ہے، اور میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ ناتمام پیدا ہوئے تھے یا پوتے پوتیاں تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21762
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 123، حدیث 300