المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب من يعرف من النساء بالكنى لمن لم ينته إلينا أسماؤهن ممن لهن صحبة فمنهن أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط امرأة عبد الرحمن بن عوف — ما أسندت أم سليم باب: وہ خواتین جو کنیتوں سے معروف ہیں اور جن کے اصل نام ہم تک نہیں پہنچے، صحابیات میں سے تھیں؛ انہی میں سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ، بھی شامل ہیں — سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ " نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ سَأَلُوا ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ حَاضَتْ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ، فَقَالَ: تَنْفِرُ، فَقَالُوا: مَا نعالْي أَفْتَيْتَنَا أَمْ لَا، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَقُولُ: لَا تَنْفِرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنِّي لَأَقُولُ مَا أَعْلَمُ وَلَا أُبَالِي أَخَذْتُمْ بِهِ أَوْ لَمْ تَأْخُذُوا بِهِ، وَلَكِنْ إِذَا قَدِمْتُمُ الْمَدِينَةَ، فَسَلُوا أُمَّ سُلَيْمٍ وَغَيْرَهَا، فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِصَفِيَّةَ: أَفِي الْخَيْبَةِ أَنْتِ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ذَلِكَ؟» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: صَفِيَّةُ حَاضَتْ، قَالَ: قِيلَ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ: فَلَا إِذًا، قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالُوا: وَجَدْنَا الْحَدِيثَ عَلَى مَا حَدَّثَتْنَا "عکرمہ سے روایت ہے کہ اہلِ مدینہ میں سے کچھ لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جسے طوافِ افاضہ کے بعد حیض آ جائے، تو انہوں نے کہا: وہ روانہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا: ہمیں اس کی پروا نہیں کہ آپ ہمیں فتویٰ دیں یا نہ دیں، جبکہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ روانہ نہ ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تو وہی کہتا ہوں جو میں جانتا ہوں، مجھے پروا نہیں کہ تم اسے مانو یا نہ مانو، لیکن جب تم مدینہ پہنچو تو ام سلیم رضی اللہ عنہا اور دیگر سے پوچھ لینا۔ (راوی کہتی ہیں کہ) میں نے انہیں بتایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا تم محرومی میں ہو؟ تم تو ہمیں روکے ہوئے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا بات ہے؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: صفیہ کو حیض آ گیا ہے۔ کہا گیا: وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو نہیں (روکے گی)۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس واپس گئے اور کہا: ہم نے حدیث ویسی ہی پائی جیسی آپ نے ہمیں بتائی تھی۔